خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 473 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 473

خطبات محمود ۴۷۳ سال ۱۹۳۵ء لینے کے لئے چلا گیا ہو۔غرض مذہبی لحاظ سے، اخلاقی لحاظ سے اور قانونی لحاظ سے یہ بات بالکل بیہودہ ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ایسا خیال محض ایک بیچارگی کے احساس کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے ورنہ اگر وہ عقل سے کام لیں اور سمجھیں کہ وہ بے چارے نہیں بلکہ قانون کے اندر رہتے ہوئے بھی ہزاروں حل ان کی مشکل کے موجود ہیں تو اس قسم کے خیال ان کے دلوں میں کبھی پیدا نہ ہوں۔میں نے ایک پہلے خطبہ جمعہ میں بتایا تھا کہ اگر تم میں سے کوئی شخص اُٹھتا ہے اور اپنے مخالفوں میں سے ایک کو مار دیتا ہے تو اس سے کیا فائدہ ہوگا ، کچھ بھی نہیں۔ایسے کام انسان اُسی وقت کرتا ہے جب عقل بے چارگی کے احساس سے ماری جاتی ہے مگر جب وہ سمجھے کہ میں مشکل سے مشکل کام کر سکتا ہوں اور بغیر قانون شکنی کئے کر سکتا ہوں تو اُس وقت یہ خیالات اس کے دل میں پیدا نہیں ہوتے اسی لئے میں نے اپنی جماعت کے ایک حصہ کو اجازت دی تھی کہ ان میں سے وہ لوگ جو آزاد ہیں اور حکومت کے ملازم نہیں ، اپنے اپنے مقام پر نیشنل لیگ بنالیں اور جماعت کی حرمت کے تحفظ کے لئے کام کریں۔مگر جہاں ہزاروں کی تعداد میں مجھے خطوط آئے ہیں بلکہ جماعتوں اور افراد کے خطوط ملا کر میں سمجھتا ہوں پچاس ساٹھ ہزار نفوس کی طرف سے عزیزم مرزا شریف احمد صاحب پر ایک احراری کے حملہ کے سلسلہ میں خطوط آئے ہیں وہاں میں پوچھتا ہوں ان میں سے کتنے ہیں جو نیشنل لیگ کے ممبر بنے ؟ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ میری طرف غصہ اور جوش سے بھرے ہوئے خطوط لکھ دینے سے ان کے ایمان کا امتحان ہو جائے گا۔اگر واقع میں تمہارے اندر ایمان ہوتا اور ان واقعات کے نتیجہ میں تمہارے دلوں میں عارضی جوش نہیں بلکہ حقیقی غیرت پیدا ہوئی ہوتی تو بجائے اس رنگ میں جوش کا اظہار کرنے کے تمہیں چاہئے تھا کہ تم نیشنل لیگ کے ممبر بنتے اور اس کو مضبوط بناتے۔مگر جہاں تک مجھے معلوم ہے نیشنل لیگ کی ممبری اس وقت دواڑھائی ہزار سے زیادہ نہیں حالانکہ اگر اپنے فرائض کا احساس ہوتا اور باقاعدہ جد و جہد کی جاتی تو نیشنل لیگ کے اڑھائی تین ہزار ممبر صرف ضلع گورداسپور سے ہو سکتے تھے۔میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ زبانی دعووں سے نہ خدا خوش ہو سکتا ہے نہ میں خوش ہوسکتا ہوں اور نہ دنیا کا کوئی عقلمند خوش ہو سکتا ہے۔تم اپنی کتنی ہی غصے والی شکل بنا ؤ، تم فرط غیظ و غضب سے کس قدر کا مینے لگ جاؤ ، تم کتنے ہی جوش میں مجھے ایک چٹھی لکھ دو تم کتنے ہی زور دار الفاظ میں اخبار میں ایک ریزولیوشن شائع کرا دو ، ان تمام باتوں کا کیا فائدہ ہوگا اور کون اس سے متاثر ہو سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود