خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 465 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 465

خطبات محمود ۴۶۵ سال ۱۹۳۵ء کے با ہماری ہی ہیں تو بعض دفعہ ان کی شکایت کو میں اپنی معلومات کی بناء پر غلط سمجھتا ہوں یا مجھے معلومات نہیں ہوتیں اور میں تحقیقات کر کے شکایت کو غلط پاتا ہوں ۔ پھر چونکہ میں بھی انسان ہوں اس لئے کئی دفعہ ایسا بھی ہو سکتا ہو کہ کسی ناظر کی واقع میں غلطی ہو مگر میں اسے باوجود کوشش کے معلوم نہ کر سکوں ایسے مواقع پر وہ لوگ جو زیادہ مخلص ہوں گے، وہ تو کہہ دیں گے ناظر کی غلطی نہیں تھی ہماری ہی غلطی تھی اور کئی جو اخلاص ے اس اعلیٰ مقام پر نہیں پہنچے وہ کہہ دیں گے کہ غلطی تو ہماری نہیں مگر خلیفہ مسیح نے اپنی طرف سے سے : ناظر کی غلطی معلوم کرنے کی پوری کوشش کی ، اگر کسی وجہ سے معلوم نہیں ہوسکی تو خیر معاملہ خدا کے سپر د ہے اور کئی لوگ جو اپنے اخلاص کو کھو بیٹھتے ہیں وہ ایسے موقع پر کہہ دیتے ہیں کہ ناظر اپنا آدمی تھا اس لئے اس کی بیچ کے کر رہے ہیں ۔ پس بعینہ یہی حالت اگر حکومت کی بھی ہو تب بھی جو بیرونی ممالک میں رہنے والے ہیں انہیں کیا ضرورت ہے کہ وہ کہیں انگریزوں نے تو حالات کو سمجھنے کی پوری کوشش کی تھی مگر وہ انہیں سمجھ نہ سکے۔ غیر حکومتوں کے باشندے اور غیر قوموں کے افراد بھلا اتنی ہمدردی انگریزی قوم سے کہاں رکھ سکتے ہیں کہ وہ اس کی غلطیوں کی بھی تاویل کریں اور انہیں بھی حُسن ظن سے دیکھیں وہ تو اس آواز کی گونج سے متاثر ہوا کرتے تھے جو قادیان سے اٹھتی اور دنیا کے تمام ممالک میں پھیل جایا کرتی تھی اور ان کی زبانیں طوطے کی طرح وہی رٹنا شروع کر دیتی تھیں جو ہم کہتے لیکن اب ہزار ہا غیر ممالک کے احمدی ان واقعات سے متاثر ہو کر انگریزی قوم کی حمایت کے لئے کب وہ قدرتی جوش رکھ سکتے ہیں جو اس سے پہلے ان میں پیدا تھا اور یہ نقصان اس قدر بڑا ہے کہ جب حکومت اسے محسوس کرے گی تو وہ ان افسروں پر لعنت کرے گی جنہوں نے اسے یہ نقصان پہنچایا۔ اب میں یہ بتاتا ہوں کہ ہم پر اس واقعہ کا کیا اثر ہوا ہے ۔ پہلا اثر ملا اثر جو مجھ پر ہوا ہے اور ہوا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ہر مخلص احمدی اپنے اندر اس اثر کو محسوس کرتا ہو گا یہ ہے کہ ہم اپنے نفوس میں ایک نئی زندگی اور نیا تغیر محسوس کرتے ہیں ۔ میری صحت ہمیشہ سے خراب رہی ہے۔ اس صحت کی خرابی کی وجہ سے میری طبیعت پر ہمیشہ ایک بوجھ رہتا ہے اور اگر ذرا سی بھی کوئی نئی بیماری آ جائے تو وہ اس پُرانی بیماری کو اُبھار دیتی ہے لیکن باوجود اس کے کہ ان فتن کی وجہ سے کام بہت زیادہ ہو گیا ،سوائے آنکھوں کی تکلیف کے کہ میں متواتر دیکھ رہا ہوں میری آنکھیں کمزور ہوتی جا رہی ہیں، عام صحت میں خدا تعالیٰ کے فضل سے میں ایسی تبدیلی دیکھتا ہوں کہ میں سمجھتا ہوں کہ اس فتنہ کا ہر ظہور میرے لئے دوا کا کام