خطبات محمود (جلد 16) — Page 458
خطبات محمود ۴۵۸ سال ۱۹۳۵ء جو زیادہ بار یک بین ہوں اُن کی نگاہ چاروں طرف پھرتی ہے۔ہم پر ان واقعات کا جو کچھ اثر ہوا ہے اس کو تو میں آگے بیان کروں گا مگر اس کی تمام بھیانک ترین تو جیہات جو ہو سکتی ہیں ، ان کو تسلیم کرتے ہوئے پھر بھی اس کا اتنا بُرا اثر ہم پر نہیں ہوا جتنا حکومت یا احرار پر ہوا ہے اور گو پنجاب گورنمنٹ یا گورنمنٹ آف انڈیا یا انگلستان کی حکومت اس اثر کو ابھی محسوس کرنے سے قاصر ہو مگر اس کی وسعت اور اہمیت کا انکار نہیں کیا جا سکتا آج نہیں تو گل موجودہ حکام کو نہیں تو ان سے بعد میں آنے والے حکام کو یا پھر ان حکام کی نسلوں کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ انہیں یہ سودا بہت مہنگا پڑا ہے۔چنانچہ پہلی چیز یہ ہے کہ جماعت احمدیہ کے حکومت سے جو تعلقات تھے وہ بالکل بے غرضانہ تھے ان کی بنیاد دین اور مذہب پر تھی۔حکومت سے تعلقات کی خرابی پر اتنے مہینے گزر چکے ہیں بلکہ سالوں گزرچکے ہیں قریباً اڑھائی سال اس پر ہونے کو آئے ہیں جبکہ حکومت نے بلا وجہ ہم سے بگاڑ پیدا کیا اور بلا وجہ ہمیں اپنے دوستوں کی صف سے نکال کر دشمنوں کی صف میں سمجھ لیا حالانکہ نہ ہم پہلے اس کے دشمن تھے نہ اب ہیں اور نہ آئندہ ہو سکتے ہیں بلکہ ہم تو کسی حکومت کے بھی دشمن نہیں ہو سکتے کیونکہ ہماری مذہبی تعلیم یہ ہے کہ جس حکومت کے ماتحت رہو حکومت کی اطاعت وفرمانبرداری کرو۔جس حد تک حکومت سے ہمارے تعلقات خراب ہو سکتے ہیں اس کی طرف گزشتہ خطبہ جمعہ میں میں اشارہ کر چکا ہوں۔اس کو مستی کرتے ہوئے قانون شکنی اور بغاوت کا خیال بھی ہمارے دلوں میں نہیں آ سکتا کیونکہ ہماری شریعت یہ کہتی ہے کہ حکومت کی اطاعت کرو اور جب حکومت کے افعال کے خلاف قانون شکنی یا بغاوت کا احساس تمہارے دلوں میں پیدا ہو تم اُس ملک کو چھوڑ دو اور کسی اور ملک میں رہ کر اپنے حقوق حاصل کرنے کیلئے جد و جہد کرو مگر جب تک تم کسی حکومت کے ماتحت رہتے ہو، تمہارا یہ حق نہیں کہ تم ملک کا امن اپنے فوائد کے حصول کی خاطر برباد کر و۔اس تعلیم کی وجہ سے یہ ممکن نہیں کہ کبھی ہماری جماعت بغاوت کا سوچے ، جس حد تک وہ جاسکتی ہے وہ وہی ہے جو میں پہلے بیان کر چکا ہوں۔پس حکومت سے ہمارے تعلقات کبھی ایسے رنگ میں نہیں ہوئے کہ جس پر گورنمنٹ اعتراض کر سکے اور نہ آئندہ ایسے ہوں گے کہ قانونی نقطہ نگاہ سے کوئی اعتراض ہو۔ہمارے جو تعلقات اس وقت حکومت سے خراب ہیں ان میں ہمارے کسی رویہ یا تبدیلی کا دخل نہیں بلکہ گورنمنٹ کے تبدیل شدہ نقطہ نگاہ کا اس میں دخل ہے۔ایسی حالت میں میں سمجھتا ہوں کہ گورنمنٹ کو ہمارے کسی راز کے