خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 41 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 41

خطبات محمود ۴۱ سال ۱۹۳۵ء لئے افسر مقرر کر کے اسے نگرانی کے بغیر چھوڑ دیا جائے۔صدرانجمن کا فرض ہے کہ وہ طالب علموں کے ذہنوں ، ان کی اُمنگوں اور ان کے ارادوں میں وسعت پیدا کر دے، ان کے اندر ایک بیداری اور زندگی کی روح پیدا کرے ، ان کے خیالات میں وسعت پیدا کرے۔اور اگر مدرس مفید مطلب کام کرنے والے نہ ہوں تو صدر انجمن کا فرض ہے کہ انہیں نکال کر باہر کرے۔ہم نے طالب علموں کا خالی اخلاص کیا کرنا ہے اس کے ساتھ کچھ عقل اور سمجھ بھی تو چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمیشہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ میں تفقہ کا مادہ دوسرے صحابہ سے کم تھا۔مولویوں نے اس پر شور مچایا مگر جو صحیح بات ہو وہ صحیح ہی ہوتی ہے۔آجکل جس قدر عیسائیوں کے مفید مطلب احادیث ملتی ہیں ، وہ سب حضرت ابو ہریرہ سے ہی مروی ہیں۔اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ سیاق و سباق کو نہ دیکھتے اور گفتگو کے بعض ٹکڑے بغیر پوری طرح سمجھے آگے بیان کر دیتے مگر باقی صحابہ سیاق و سباق کو سمجھ کر روایت کرتے۔اسی طرح اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق روایتیں چھپنی شروع ہوئی ہیں جن میں سے کئی ایسے لوگوں کی طرف سے بیان کی جاتی ہیں جنہیں تفقہ حاصل نہیں ہوتا اور اس وجہ سے ایسی روایتیں چھپ جاتی ہیں۔جن پر لوگ ہمارے سامنے اعتراض کرنا شروع کر دیتے ہیں۔چنانچہ ایک دفعہ روایت چھپ گئی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب آتھم کی میعاد میں سے صرف ایک دن باقی رہ گیا تو بعض لوگوں سے کہا کہ وہ اتنے چنوں پر اتنی بار فلاں سورۃ کا وظیفہ پڑھ کر آپ کے پاس لائیں۔جب وہ وظیفہ پڑھ کر چنے آپ کے پاس لائے تو آپ انہیں قادیان سے باہر لے گئے اور ایک غیر آباد کنوئیں میں پھینک کر جلدی سے منہ پھیر کر واپس لوٹ آئے۔میرے سامنے جب اس کے متعلق اعتراض پیش ہوا تو میں نے روایت درج کرنے والوں سے پوچھا کہ یہ روایت آپ نے کیوں درج کر دی۔یہ تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صریح عمل کے خلاف ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی نَعُوذُ بِاللہ ٹونے وغیرہ کیا کرتے تھے۔اس پر جب تحقیقات کی گئی تو معلوم ہوا کہ کسی شخص نے ایسا خواب دیکھا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے جب اس خواب کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا اسے ظاہری شکل میں ہی پورا کر دواب خواب کو پورا کرنے کے لئے ایک کام کرنا بالکل اور بات ہے اور ارادہ ایسا فعل کرنا اور بات۔اور ظاہر