خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 447 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 447

خطبات محمود ۴۴۷ سال ۱۹۳۵ء کا بھی موقع نہیں ملا بلکہ اگر وہ اخبارات کا مطالعہ ہی با قاعدہ کر سکتے تو انہیں یاد ہونا چاہئے تھا کہ ایک ہی سال ہؤا کہ برطانوی فوج کے ایک میجر نے ایک نہایت اہم راز ایک مشہور کیمیکل فرم کے پاس فروخت کرنے کی کوشش کی تھی مگر پکڑا گیا ، پھر اس سے سال بھر پہلے ایک برطانوی لفٹیننٹ نے ایک جرمن عورت کی محبت اور کچھ نقدی کے لالچ کی وجہ سے ایک اہم راز فروخت کرنے کی کوشش کی تھی مگر پکڑا گیا اور اب جیل میں ہے۔ پھر شاید اس افسر کو معلوم نہیں کہ جنگ کے دنوں میں ایک سیکرٹ محکمہ تھا اس کی شائع کردہ رپورٹ کے بعض حصے میں نے پڑھے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ درجنوں اور بیسیوں ایسے انگریز پکڑے گئے تھے جو غیر ملکیوں کو اپنی خبریں دیتے تھے اور انہیں سخت سزائیں دی گئیں پھر یہ افسر اگر کتا بیں نہ پڑھ سکے کتا بیں نہ پڑھ سکتے ہوں تو شملہ میں ہی ان سے دو میل کے فاصلہ پر ایک اور افسر رہتے ہیں جو بہت لائق اور شریف انگریز ہیں ۔ جنگ کے دنوں میں وہ ایک خاص کام پر مامور تھے جس کا میں نام نہیں لیتا ، اگر یہ افسر عِنْدَ الْمُلَاقَاتُ اُن سے دریافت کریں تو وہ بتا دیں گے کہ جنگ کے دنوں میں بعض انگریز افسر بھی غداری کیا کرتے تھے اور جب جنگ کے دنوں میں بعض لوگ ایسا کر سکتے تھے تو کیوں امن کے دنوں میں ایسا نہیں کر سکتے ۔ حال ہی میں ایک جرمن مصنف نے ایک کتاب شائع کی ہے جس میں لکھا ہے کہ لارڈ کچیز کا جہاز جن کے مرنے پر تمام انگلستان میں ماتم بپا ہو گیا تھا ، دو انگریز افسروں کی سازش سے ہی ڈبویا گیا تھا۔ پس وہ کون سی قوم ہے جس میں غدار نہیں ہو سکتے بعض قو میں ان کی موجودگی میں بھی اچھی ہوتی ہیں اور بعض خراب ہو جاتی ہیں جن میں غدار زیادہ ہو جائیں وہ تباہ ہو جاتی ہے اور جن میں کم ہوں وہ اچھی رہتی ہے ۔ پس جب میں یہ کہتا ہوں کہ برطانوی قوم اچھی ہے اور ساتھ یہ بھی کہ اس کے بعض افسر غدار ہیں تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ اس قوم میں غدار تھوڑے ہیں اور اگر یہ بات کسی کو بُری لگتی ہے تو مجھے افسوس ہے کہ میں اس کی تکلیف کو دور نہیں کر سکتا ۔ میرا اب بھی یہ خیال ہے کہ انگریز قوم میں بُرے لوگ تھوڑے ہیں اور اچھے زیادہ ، میں جانتا ہوں کہ میرا یہ کہنا کہ بعض افسر غدار ہیں بعض افسروں کو بُرا لگتا ہے مگر بعض کو نہیں بھی لگتا ۔ سرا یومین ہاول گورنمنٹ آف انڈیا کے فارن سیکرٹری تھے ایک دفعہ مولوی عبد الرحیم صاحب دردان سے ملنے گئے کشمیر کے متعلق کوئی معاملہ تھا۔ درد صاحب نے کہا کہ آپ جانتے ہیں ریاستی پولیس میں سارے افسر اچھے نہیں ہوتے ۔ اس پر وہ کہنے لگے کہ آپ یہ کیوں کہتے ہیں ہماری پولیس کے بھی بعض افسر