خطبات محمود (جلد 16) — Page 385
خطبات محمود ۳۸۵ سال ۱۹۳۵ء چلانے پر آمادہ نہ ہوئے تو بعض افسروں نے پستول ان کے سینوں کی طرف کر دیئے اور کہا کہ اگر تم دشمنوں پر فائز نہیں کرو گے تو ہم تم پر فائر کر کے تمہیں ہلاک کر دیں گے۔انہوں نے کہا بے شک ہمیں ماردیں مگر ہم مجبور ہیں کیا کریں ہم سے بندوق کا گھوڑ اکھنچتا ہی نہیں۔تو بعض طبائع سخت کمزور ہوتی ہیں مگر باوجود اس کے اللہ تعالیٰ نے جہاد سب پر فرض کیا ہے اور جہاد یہ بتا دیتا ہے کہ اپنے عزیزوں اور اپنے رشتہ داروں اور اپنے دوستوں اور اپنے ساتھیوں کے مقابلہ میں اس کے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت کتنی ہے ، جہاد ہی ہے کہ جو یہ بات روشن کر دیتا ہے کہ خدا اور اس کے رسول اور اس کے دین کو مؤمن ترجیح دیتے ہیں یا اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں اور دوستوں کو۔روایتوں میں آتا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ایک صاحبزادہ نے جو ابھی داخلِ اسلام نہیں ہوئے تھے ، بدر یا اُحد کی جنگ میں مسلمانوں کے مقابل پر لڑائی کی۔اس کے بعد کسی اور موقع پر جبکہ وہ مسلمان ہو چکے تھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گھر میں آئے۔اور مختلف امور پر باتیں ہونے لگیں چونکہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رسول کریم ﷺ کے گھر میں تھیں اس لئے یہ ایک ہی خاندان تھا اور آپس میں باتیں ہو رہی تھیں کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے لڑکے نے کہا ابا جان ! فلاں جنگ میں ایک موقع پر آپ جب واپس لوٹ رہے تھے تو میں ایک چٹان کے پیچھے چھپا ہوا تھا اگر میں چاہتا تو اُس وقت حملہ کر کے آپ کو مار دیتا مگر مجھے خیال آیا کہ آپ میرے باپ ہیں اس لئے میں نے آپ پر ہاتھ نہ اُٹھایا۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے یہ سنا تو فرمایا خدا تعالیٰ نے تجھے ایمان دینا تھا اس لئے میں تجھے نہ دیکھ سکا ورنہ اگر میں تجھے دیکھ لیتا تو ضرور مار دیتا۔یہ کفر و ایمان کا فرق ہے۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ چونکہ ایمان کو ہر حالت میں مقدم رکھتے تھے اس لئے آپ نے کہا کہ خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں میں کسی کی پرواہ نہ کرتا۔اگر میرے سامنے میرا بیٹا بھی آتا تو مارا جاتا لیکن کفر میں ذاتیات کا سوال آ گیا۔تو جہاد میں آکر آزمائش ہو جاتی ہے انسان کے ایمان کی اور آزمائش ہو جاتی ہے اس کی محبت الہی کی۔مگر جس زمانہ میں جہاد نہیں ہوتا اس زمانہ میں ایمان کی آزمائش کا ذریعہ کونسا ہے۔ایسے موقع پر بددعا ہی ایک ذریعہ ہے جس کے ذریعہ انسان کے ایمان کی آزمائش ہوتی ہے اور دنیا پر ظاہر ہو جاتا ہے کہ وہ خدا کو ترجیح دیتا ہے۔یا اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کو۔جب انسان اپنے عزیز سے عزیز رشتہ دار کو ایسے مقام پر کھڑا ہوا دیکھے جو صداقت کے لئے مضر