خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 384 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 384

خطبات محمود ۳۸۴ سال ۱۹۳۵ء اب یہی سمجھایا ہے ۔ در حقیقت یہ انسانی نفس کی کمزوری ہوتی ہے کہ وہ چھوٹے نقصان کے مقابلہ میں بڑے نقصان کو ترجیح دے دیتا ہے ۔ مثلاً ایک کمزور طبیعت والا انسان لڑائی کے بہر حال مخالف ہوگا اور باوجود اس کے کہ خدا تعالیٰ نے جہاد کو مسلمانوں پر فرض قرار دیا ہے پھر بھی اس کمزور طبیعت والے کے لئے یہ بڑی مشکل چیز ہو گی ۔ چنانچہ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں ہی دو صحابہ کے متعلق آتا ہے کہ وہ لڑائی سے بڑے گھبراتے اور اس حد تک یہ بات ان کی طبیعت میں داخل تھی کہ رسول کریم ﷺ بھی ان کی طبیعت کو مد نظر رکھتے ہوئے عملی جہاد میں انہیں شامل نہیں کیا کرتے تھے ۔ یہ نہیں کہ وہ منافق تھے وہ دوسرے صحابہ کی طرح ایمان رکھتے تھے صرف طبیعت کی کمزوری کی وجہ سے لڑائی میں شامل ہونے سے گھبراتے تھے۔ ان میں سے ایک حسان بن ثابت بھی ہیں ۔ ایک دفعہ رسول کریم ﷺ ایک جنگ صلى الله علي ریف لے گئے تو ایک صحابیہ کہتی ہیں حسان کو رسول کریم یا عورتوں کی حفاظت کے لئے کے لئے تشریف ۔ صلى الله چھوڑ گئے ۔ چونکہ آپ جانتے تھے کہ یہ لڑائی نہیں کر یہ لڑائی نہیں کر سکتے ۔ معلوم ہوتا ہے آنحضرت ﷺ نے سوچا - عروسه کہ عورتوں کی حفاظت ہی ان کے سپرد کر دی جائے تا انہیں خیال رہے کہ یہ بھی جہاد میں شریک ہیں ۔ آپ کا یہ بھی خیال ہو گا کہ عورتیں چونکہ لشکر کے پیچھے ہوتی ہیں ان کے پاس کوئی دشمن نہ دشمن نہیں آئے گا مگر اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ماتحت اتفاقا کوئی دشمن فوجی صفوں سے آنکھ بچا کر عورتوں پر حملہ کرنے کے لئے آ گیا ۔ اب عورتیں کہہ رہی ہیں کہ حستان ! آگے بڑھو آگے بڑھو مگر حسان ہیں کہ عورتوں کے پیچھے چھپتے چلے جا رہے ہیں ۔ آخر وہ صحابیہ کہتی ہیں کہ ہم نے خود ہی ایک ڈندا اُٹھایا اور زور سے اس دشمن کے سر پر مارا وہ ڈنڈے کی چوٹ کھا کر گر گیا اور اُس کا تہ بند گھل گیا۔ نگا ہو جانے کی وجہ سے عورتوں نے اپنا منہ ایک طرف کر لیا اور حستان سے کہا اس پر کپڑا ڈال دو پھر ہم خود اس کو پکڑ لیں گی مگر وہ کپڑا ڈالنے کی بھی جرات نہ کر سکے ۔ سے تو بعض طبائع اس قسم کی کمزور ہوتی ہیں کہ وہ لڑائی کی طرف جاہی نہیں سکتیں ، ان میں منافقت نہیں ہوتی ، بے ایمانی نہیں ہوتی بلکہ یہ ایک جسمانی کمزوری ہوتی ہے ۔ اب تو پچھلے ایجی ٹیشن کے دنوں سے کشمیری بہت بہادر ہو گئے ہیں اور ایجی ٹیشن کے دنوں میں انہوں نے کارہائے نمایاں سر انجام دیتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ ایک وقت جب گورنمنٹ کشمیریوں کو فوج میں بھرتی کر لیا کرتی تھی جب ایک لڑائی کے وقت میں انہیں کہا گیا کہ دشمن پر گولیاں چلائیں تو انہوں نے کہا کہ ہمارا دل کا نپتا ہے ہم دشمن پر گولی نہیں چلا سکتے ۔ آخر بہت سے اصرار کے بعد بھی جب وہ گولی