خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 383 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 383

خطبات محمود ۳۸۳ سال ۱۹۳۵ء یعنی اللہ تعالیٰ اپنے مامور و مُرسل یا کسی فرستادہ کو حکم دیتا ہے کہ بددعا کرو، تب وہ بد دعا کرتے ہیں ور نہ خود اپنی ذات میں ان کے دل میں اس قسم کی تحریک پیدا نہیں ہوتی ۔ میرے اس خیال کی بنیاد یہ ہوا کرتی تھی کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کے نتیجہ میں لازمی طور پر بنی نوع انسان سے انسان کو محبت ہو جاتی ہے جیسے باپ کے ساتھ محبت کرنے والے لڑکے کو اپنے بھائیوں کے ساتھ بھی محبت ہوتی ہے ۔ پس جس طرح ماں باپ سے محبت کرنے والا بچہ اپنے بھائیوں سے محبت کرنے پر مجبور ہوتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ سے محبت رکھنے والا انسان بنی نوع انسان سے محبت کرنے پر مجبور ہوتا ہے اور جوں جوں کسی کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت بڑھے گی اسی قدر بنی نوع انسان کی محبت بھی اس کے دل میں بڑھتی چلی جائے گی پس جس قدر کوئی اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریب ہو گا اُسی قدر وہ شفقت على الناس کا بہترین نمونہ ہوگا ۔ اس بناء پر میرا خیال یہ تھا کہ انبیاء و اولیاء کسی کے لئے بد دعا نہیں کرتے سوائے اس کے کہ انہیں بددعا کرنے کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے اذن دیا جائے اسی وجہ سے میں نے موجودہ تبدیلی خیال سے پہلے کبھی کسی کے لئے بددعا نہیں کی کیونکہ میں ہمیشہ یہ خیال کرتا تھا کہ جس کو اللہ تعالیٰ سزا کا مستحق سمجھے گا وہ آپ اُسے سزا دے لے گا لیکن اب میرے خیالات میں اس بارے میں کسی قدر تبدیلی پیدا ہوئی ہے ۔ وہ اصول تو بالکل پکے اور صحیح ہیں اور ان کی تبدیلی نہیں ہو سکتی یعنی نہ اس میں تبدیلی ہوسکتی ہے کہ جتنی زیادہ کوئی شخص خدا تعالیٰ سے محبت کرے گا اتنی ہی زیادہ وہ اس کے بندوں سے محبت رکھے گا اور نہ اس میں کوئی تبدیلی ہو سکتی ہے کہ کسی کو سزا اور عذاب دینا یہ معاملہ کلیۂ خدا تعالیٰ نے اپنے قبضہ میں رکھا ہوا ہے وہ آپ حج اور قاضی ہے جسے چاہے عذاب دے اور جسے چاہے انعام دے ہم اس کے معاملات میں دخل دینے والے کون ہیں ؟ لیکن گزشتہ دنوں میں اس بارے میں دعا اور غور کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھے جو کچھ بھی سمجھا یا وہ یہ ہے کہ گلی طور پر بد دعا کا سلسلہ بند نہیں بلکہ بد دعا ایک ضرورت کو پورا کرتی ہے ۔ اس میں شبہ نہیں کہ بہت دفعہ اللہ تعالیٰ کے مامور خدا تعالیٰ کے الہام کے ما تحت بد دعا کرتے ہیں اور اس میں بھی شبہ نہیں کہ بعض دفعہ دعا یا بد دعا کرنے والے کو دعا یا بددعا کرنے سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے روکا جاتا ہے جیسے رسول کریم ﷺ کو ایک دفعہ روک دیا گیا۔ مگر اس میں بھی شبہ نہیں کہ بعض دفعہ بد دعا کرنا انسان کے لئے ضروری ہو جاتا ہے اور مجھے خدا تعالیٰ نے صلى