خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 372 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 372

خطبات محمود صلى الله ۳۷۲ سال ۱۹۳۵ء آنحضرت یہ سب اسی غرض کو لے کر دنیا میں آئے کہ خدا تعالیٰ کی بادشاہت قائم ہو ۔ نبیوں کا یہی کام ہوتا ہے اور جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ماموریت کا دعویٰ کیا تو آپ کا بھی یہی کام تھا اور نہ آپ کی بعثت بالکل بے فائدہ ہوتی ۔ پس نبی کا اصل کام یہی ہوتا ہے اور اسی کو پورا کرنے کے لئے تمام انبیاء زور دیتے آئے ہیں ۔ عیسائی آج تک روزانہ دعا کرتے ہیں کہ خدا کی بادشاہت جس طرح آسمان پر ہے زمین پر بھی ہو ۔ پھر کس قدر تعجب کی بات ہے کہ جو لوگ روزانہ یہ دعا کرتے ہیں وہ اس امر کو بالکل بھول جاتے ہیں کہ کوئی اور بادشاہ بھی ہے۔ ہماری جماعت کا بھی بعینہ یہی نقطہ ء نگاہ ہے ۔ ہم بھی دنیا میں خدا کی بادشاہت قائم کرنا چاہتے ہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ دُنیوی بادشاہت کو مٹانا چاہتے ہیں بلکہ ہماری کوشش یہ ہے کہ لوگ دُنیوی حکومت سے بغاوت نہ کریں حکام سے تعاون کریں مگر سب سے اعلیٰ کوشش ہماری یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بادشاہت لوگوں پر بھی اور حکمرانوں اور بادشاہوں پر بھی قائم ہو ۔ اگر یہ نقطہ ء نگاہ بدل جائے تو کوئی مذہب مذہب نہیں رہتا بلکہ ایک سوسائٹی بن جاتا ہے ۔ اگر ہم دنیوی حکومتوں کے غلام رہیں اور ہر وقت یہی مقاصد ذہن میں ہوں کہ کوئی رُتبہ یا عہدہ مل جائے اور خدا کی بادشاہت قائم کرنے کا کوئی خیال نہ رکھیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم مذہب کو ایک بے معنی چیز بنا رہے ہیں ۔ تمام انبیاء دنیا میں خدا کی بادشاہت کے قیام کیلئے آتے ہیں ۔ حضرت مسیح علیہ السلام بھی اس غرض کو لے کر آئے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کا بھی یہی مقصد ہے لیکن یہ بات انگریزوں کی بادشاہت کے خلاف نہیں ۔ اس کا یہ مطلب لینا کہ ہم خدا تعالیٰ کی بادشاہت انگریزوں کی بادشاہت کی جگہ قائم کرنا چاہتے ہیں ، ویسی ہی غلطی ہے جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بروز ہونے کو تناسخ سے تعبیر کر دیا جائے ۔ پس اگر انگریز حکام یہ خیال کرتے ہیں کہ خدا کی بادشاہت کے قیام کے لئے ہماری کوششوں کا یہ مطلب ہے کہ دنیا سے انگریزی حکومت مٹ جائے تو یہ ان کی غلطی ہے بڑی حکومت کے ماتحت تابع حکومتیں بھی دنیا میں ہوتی ہیں ۔ پارلیمنٹ کی حکومت کا یہ مطلب نہیں کہ وائسرائے کی حکومت نہ رہے اور جب یہ کوشش کی جاتی ہے کہ ہر صوبہ میں گورنر کی اطاعت کی جائے تو اس کے یہ معنی کبھی نہیں ہوتے کہ وائسرائے کی حکومت نہ رہے ۔ پھر حکومت چاہتی ہے کہ ڈپٹی کمشنروں سے تعاون کیا جائے اور ان کے احکام مانے جائیں تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ گورنر کی حکومت مٹا دی جائے ۔ ماتحت حکومت بالا حکومت کے