خطبات محمود (جلد 16) — Page 370
خطبات محمود ٣٧٠ سال ۱۹۳۵ء ہے مار ، اور جزائر غرضیکہ ہر جگہ ان کی حکومت ہے ساتوں بر اعظموں میں ان کی حکومت کسی نہ کسی جگہ ضرور ہے مگر باوجود اس کے بعض حکام جو رعایا کے مذاہب اور ان کے عقائد سے بالکل ناواقف ہوتے ہیں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ خود تو گمراہ ہوتے ہی ہیں دوسروں کو بھی کر دیتے ہیں اور اس وجہ سے ملک میں فسادات بھی پیدا ہوتے ہیں ۔ ہماری جماعت کو دشمن کتنی ہی حقارت سے کیوں نہ دیکھے اور اس کی تعداد کتنی ہی کم کیوں نہ بتائی جائے مگر اس امر کو ماننے کے سوا اُسے چارہ نہیں کہ یہ ایک اہمیت رکھنے والی جماعت ہے۔ جس طرح انگریزی حکومت ساری دنیا پر ہے اسی طرح جماعت احمد یہ بھی روستان ، سیلون ، سٹریٹ سیٹلمنٹس ، افغانستان، ان، ایران ، عراق ، عرب ،فلسطین ، شام ، مصر ، چین ، سماٹرا، جاوا، آسٹریا، افریقہ، کینیا، یوگنڈا ، نثال ، گولڈ کوسٹ ، سیرالیون ، نائیجیریا وغیرہ ممالک میں پائی جاتی ہے۔ افریقہ کا وہ علاقہ جو پُرانے زمانہ میں جرمن افریقہ کہلاتا تھا اس میں بھی ہماری جماعت ماریشس میں بھی ہے ، یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ میں بھی ہے، امریکہ کی بعض چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بھی ہے، بیلجیئم میں ہے ، انگلستان میں ہے ، افریقن عربوں کو مد نظر رکھتے ہوئے فرانسیسی حکومت میں بھی ہے، روس میں بھی ہے غرضیکہ دنیا کا کوئی بر اعظم نہیں جہاں ہماری جماعت نہ ہو اور یہی چیز ہے جو دنیا میں کسی قوم کی طاقت کی علامت ہوتی ہے ۔ کسی جماعت کی طاقت اُس کی تعداد سے نہیں دیکھی جاتی بلکہ اس امر سے دیکھی جاتی ہے کہ کتنے مقامات پر اسے نشو و نما کا موقع مل رہا ہے ۔ وہ قوم جو ایک ملک میں ہو انسانی نقطہ نگاہ سے اسے مٹادینا آسان ہوتا ہے ۔ آسمانی نقطہ نگاہ سے تو اگر دیکھا جائے تو کسی کو مٹانا بھی آسان نہیں لیکن دنیوی نقطہ نگاہ سے ایسی جماعتوں کو مٹانا آسان ہوتا ہے جو ایک ہی ملک میں ہوں ۔ جو دو ممالک میں ہوں ان کو مٹا نا نسبتاً مشکل ہوتا ہے اس طرح جو تین چار ممالک میں ہوں ان کا مٹانا اور بھی مشکل ہوتا ہے اور احمدیت اٹھارہ میں ممالک میں نشو و نما پا رہی ہے اور ہر یر اعظم اور ہر نسل کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اس میں چینی بھی ہیں سماٹری اور جاوی بھی ، افغان اور ایرانی بھی ، عرب بھی ہیں اور انگریز بھی ، امریکن بھی ہیں اور حبشی بھی ، گورے بھی ہیں اور کالے بھی ، اور وہ لوگ بھی جو زرد رنگ والے کہلاتے ہیں اور جنہیں زرد خطرہ کہا جاتا ہے گویا قریباً ہر نسل اور ہر قوم کے آدمی اس میں شامل ہیں اور بہت تھوڑے ملک ہیں جہاں کوئی احمدی نہ ہو۔ ایسی جماعت کے پھیلنے کے لئے بہت موقع ہوتا ہے۔ اگر ایک یا دو چار حکومتیں بھی اسے مٹانا چاہیں تو وہ