خطبات محمود (جلد 16) — Page 368
خطبات محمود ۳۶۸ سال ۱۹۳۵ء کے ایک بنالیا ہے۔گویا قیمہ کی طرح سب کو باہم ملا کر ایک کر دیا ہے اور پھر اس خیال کی جنسی اُڑانی شروع کر دی۔قرآن کریم میں آتا ہے اَجَعَلَ الْالِهَةَ الهَا وَاحِدًا وہ یہ تسلیم نہیں کرتے تھے کہ محمد صلى الله ایک خدا مانتے ہیں بلکہ خیال کرتے تھے کہ جس طرح کئی چیزوں کو باندھ کر یا گوٹ ٹوٹ کر ایک کر لیا جاتا ہے اسی طرح محمد ( ﷺ) نے بہت سے خداؤں کو ملا کر ایک خدا بنا لیا ہے۔یہ کتنا ہے وقوفی کا عقیدہ تھا لیکن وہ لوگ آخری عمر تک یہی سمجھتے رہے وہ خود جاہل تھے مگر جہالت آنحضرت کی طرف منسوب کرتے تھے۔مجھے خود اپنا ایک تجربہ یاد ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا دعویٰ تھا کہ آپ حضرت مسیح ناصری کے بروز ہیں جس کے معنی یہ ہیں کہ آپ حضرت مسیح ناصری کی خاصیتیں اور آپ کے مدارج و معارف لے کر دنیا میں آئے تھے لیکن بعض مخالفوں کا ذہن بروز سے اس طرف گیا کہ گویا آپ تناسخ کے قائل ہیں اور آپ کا دعویٰ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روح آپ میں داخل ہو گئی ہے۔دس بارہ سال ہوئے ڈاکٹر ز و یمر صاحب جو بڑے بڑے پادریوں میں سے ایک ہیں ، نسلاً جر من مگر قومیت کے لحاظ سے امریکن ہیں ، کچھ عرصہ مصر میں بھی رہے ہیں اور آج کل امریکہ میں ہیں اور پادریوں میں دنیا کی جو بہترین ہستیاں سمجھی جاتی ہیں ان میں سے ایک ہیں ، چپ چپاتے یہاں آپہنچے اور مجھ سے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم ان دنوں زندہ تھے ان سے میرے متعلق پادری صاحب نے کہا کہ میں بعض سوالات ان سے پوچھنا چاہتا ہوں اور جب ڈاکٹر صاحب نے دریافت کیا کہ کیا سوالات ہیں تو پادری صاحب نے کہا کہ انہی کے سامنے پیش کروں گا۔ان کا خیال تھا کہ ایسا نہ ہو کہ پہلے معلوم ہونے پر جواب سوچ رکھیں گویا وہ سمجھتے تھے کہ ان کے سوالوں کا میں کوئی جواب نہ دے سکوں گا۔پہلے تو ان کے ساتھ باہر ہی لطیفہ ہوا۔یہاں کی گلیوں میں پھر کر کہنے لگے مجھے مدت سے شوق تھا کہ دیکھوں اسلامی حکومت کے ماتحت صفائی وغیرہ کا انتظام کس طرح ہوتا ہے مگر یہاں گلیوں کی صفائی وغیرہ تو ایسی اچھی طرح نہیں ہوتی۔ڈاکٹر رشید الدین صاحب مرحوم نے اس کا جواب یہ دیا کہ ابھی تو یہاں پہلے مسیح کی حکومت ہے۔یعنی انگریز جو پہلے مسیح کی اُمت ہیں یہاں کے حکمران ہیں۔خیر اس کے بعد وہ میرے پاس پہنچے اور اپنے دل میں جو بعض پہیلیاں بنارکھی تھیں پیش کیں۔پہلا سوال انہوں نے مجھ سے یہ کیا کہ نبی کس جگہ ہونا چاہئے یعنی کو نسا مقام نبی کی بعثت کے لئے