خطبات محمود (جلد 16) — Page 358
خطبات محمود ۳۵۸ سال ۱۹۳۵ء میں نے دیکھا کہ زید بکر کو پیٹ رہا تھا حالانکہ زید نے بکر کو نہیں پیٹا خالد اُس وقت موقع پر موجود نہیں تھا۔مگر وہ شخص گواہی میں خالد کا نام لکھ دیتا ہے تو اگر خالد کہتا ہے میں نے زید کو پیٹتے دیکھا تو یہ جھوٹ ہوگا لیکن اگر وہ یہ نہیں کہتا مگر یہ کہتا ہے کہ میں اس بارے میں کچھ نہیں کہنا چاہتا تو یہ بھی جائز نہیں ہوگا کیونکہ ایسے واقعہ پر میں کچھ نہیں کہنا چاہتا کا مطلب یہی ہوگا کہ واقع میں زید بکر کو پیٹ رہا تھا اور یہ شخص زید کی حمایت کر رہا ہے حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ نہ زید نے بکر کو پیٹا نہ خالد نے ایسا فعل دیکھا پس اس قسم کی خاموشی بھی جھوٹ میں داخل ہوگی کیونکہ وہ مظلوم کی مدد سے کنارہ کرتا ہے۔غرض ایسی خاموشی بھی جو جھوٹ کے مترادف ہو مت اختیار کر و اور جھوٹ بھی مت بولو جو انسان کے ایمان کو تباہ کر دیتا ہے۔سچائی اختیار کر وہ خواہ اس کے بدلے میں تمہیں کتنا بڑا نقصان اُٹھانا پڑے فرض کرو تم میں سے کوئی شخص کسی سے لڑ پڑتا ہے اور فرض کرو اس کے بعد مقدمہ ہو جاتا ہے تو اب مناسب یہ ہے کہ جو کچھ واقعہ ہوا ہے وہ عدالت میں سچ سچ بیان کر دیا جائے۔اگر اسے اشتعال دلایا گیا تھا اور وہ اپنے نفس پر قابو نہ رکھ سکا تھا تو اب اس کا یہ کام نہیں کہ وہ اپنے فعل کو چھپائے اور اس پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرے بلکہ عدالت میں کھلے الفاظ میں اپنی غلطی کا اقرار کرے اور کہہ دے کہ مجھے اشتعال دلایا گیا تھا جس کی وجہ سے میں ضبط نفس کھو بیٹھا اور مجھ سے یہ حرکت سرزد ہوگئی۔اس کا یہ فعل چاہے عدالت میں اسے سزا دلا دے مگر ہر شریف انسان کہے گا کہ گو اس سے غلطی ہوئی مگر اس نے اپنی غلطی سے بڑھ کر اس کا کفارہ ادا کر دیا سوائے اس کے کہ کوئی شخص جان بوجھ کر شرارت کرے ایسا شخص جو جان بوجھ کر شرارت کرتا ہے اگر عدالت میں اپنے جرم کا اقبال بھی کر لیتا ہے تو اس کا جرم کم نہیں ہو جاتا کیونکہ جس طرح جھوٹ بولنا اسلام میں ناپسندیدہ ہے اسی طرح فتنہ وشرارت کو بھی اسلام سخت نا پسند کرتا ہے جو شخص فتنہ پھیلاتا ہے وہ آدم کا مرید نہیں بلکہ شیطان کا مرید ہے۔آدم کو خدا تعالیٰ نے فساد کے لئے نہیں بلکہ امن کے قیام کے لئے بھیجا تھا وہ ابلیس تھا جس نے شرارت کی اور فتنہ وفساد پھیلا یا۔پس اگر کوئی شخص جان بوجھ کر فتنہ پیدا کرتا ہے تو چاہے احمدی ہی کیوں نہ ہو آدم کی ذریت میں سے نہیں بلکہ ابلیس کی ذریت میں سے ہے۔پس اگر تم چاہتے ہو کہ مسیح موعود کی ذریت بنو تو سچ بولو، چاہے سچائی کے قیام کے لئے تم میں سے ہزار آدمی قید ہو جائے یا دس ہزار۔تمہاری نیکی اور سچائی کے دامن پر کوئی حرف نہیں آنا چاہئے۔اور یہ مت خیال کرو کہ تمہارے قید ہو جانے یا مر جانے یا