خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 310 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 310

خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء سولہواں سواں حصہ ہی کیوں نہ سہی مگر کبھی نہ کبھی تو اس کی باری بھی ضرور آئے گی اب اگر اسی تقریر کو وہی باری سمجھ لیا جائے تو ان کے لئے چیخنے چلانے کا کون سا موقع ہے یہی سمجھ لیں کہ ہماری باری آگئی ہے۔پھر جب کوئی دوسرا احمدی مقرر ہوگا تو ہم کہیں گے یہ دوسرا سولہواں سواں حصہ ہے حکومت نے مینارٹی (MINORITY) کو پہلے موقع دے دیا ہے اوّل تو حکومت نے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کا تقرر ان کے احمدی ہونے کی وجہ سے کیا ہی نہیں بلکہ ایک قابل شخص دیکھ کر کیا ہے لیکن اگر احمدی سمجھ کر ہی کیا ہو تو اعتراض کی کیا بات ہے۔کیا ۵۶ ہزار کا نمائندہ کبھی ہونا ہی نہیں چاہئے ؟ بمبئی گورنمنٹ میں ایک وزیر پاری ہے حالانکہ ہماری تعداد پارسیوں سے کہیں زیادہ ہے مگر ہندوؤں نے پاری وزیر کے تقرر پر کبھی شور نہیں مچایا کہ ان کی سارے ملک میں ایک لاکھ تعداد ہے اسے کیوں مقرر کیا گیا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عظمند قوم ہے اور اس بات کو بجھتی ہے پھر سر جوزف بھور عیسائی تھے پھر عیسائیوں کی تعداد چند لاکھ ہے اور ہندوؤں کا بھی ایک وزیر تھا جن کی تعداد چوبیس کروڑ ہے مگر ہندوؤں نے اس پر کبھی شور نہیں مچایا حالانکہ ہند و قوم عہدوں کے لئے جان دیتی ہے مگر پھر بھی وہ اتنی بات سمجھتے ہیں کہ بیوقوفی کا اعتراض نہیں کرنا چاہئے۔اسی طرح یہ لوگ ہمیں اپنے سے علیحدہ ہی سمجھیں مگر اتنی تو عقل دکھائیں کہ کیا ہمارا حصہ کبھی نہیں ملے گا؟ ہم نکلے ہوئے ہی سہی مگر مسلمانوں سے ہی نکلے ہوئے ہیں اور ہمارا حصہ بھی ان میں سے ملے گا ہندوؤں میں سے نکلی ہوئی قوم کو اگر ان کے حصہ سے حصہ ملتا ہے تو مسلمانوں میں سے جو قوم نکلی ہو اسے مسلمانوں کے حصہ سے ملے گا غالب نے کہا ہے گو واں نہیں پہ واں سے نکالے ہوئے تو ہیں کعبہ سے ان بچوں کو بھی نسبت ہے دُور کی تو جسے مسلمانوں سے تعلق ہو گا اسے حصہ بھی انہیں سے ملے گا اور وہ انگریزوں نے احمدیوں کو دے دیا۔انگریزوں نے تو اچھا کا رکن اور قابل آدمی سمجھ کر دیا ہے لیکن اگر یہ بھی فرض کر لیا جائے کہ احمدی سمجھ کر دیا ہے تو اس پر شور مچانے کی کوئی وجہ نہیں۔پس ان لوگوں کی ہر چال اُلٹی ہے اور انہوں نے لوگوں کو اپنے سے اس قدر متنفر کر لیا ہے کہ لوگ اپنے طور پر انہیں گالیاں دیتے ہیں۔میں لاہور جاتا ہوں تو بڑے بڑے لوگ دریافت کرتے ہیں کہ یہ فساد کب ختم ہوگا یہ تو بہت بُری سپرٹ کا اظہار کر رہے ہیں اس طرح تو ان سے کوئی شریف مسلمان