خطبات محمود (جلد 16) — Page 306
خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء کی کیوں نہ ہو۔اول تو مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنا ، پھر ناصح سے لڑنا اور تیسرا اب اور کمال یہ کیا کہ حادثہ کراچی کی وجہ سے سلور جوبلی کی خوشی میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے بھلا کوئی پوچھے کہ سلور جو بلی کا کراچی کے حادثہ سے تعلق ہی کیا ہے۔اگر سارے انگریز ظالم ہوں تب بھی ملک معظم کی ذات سے عنا د کیونکر جائز ہو سکتا ہے۔انگلستان کا بادشاہ آئینی ہوتا ہے وہ حکومت کی تفاصیل میں دخل نہیں دیتا وہ تو ایک مرکزی نقطہ ہوتا ہے جو مختلف ممالک کو جمع کرتا ہے اور جب کسی انگریز افسر کے افعال سے بادشاہ کو کوئی تعلق ہی نہیں تو پھر ان کی سلور جوبلی سے عناد کیسا۔یہ تو وہی بات ہوئی کہ کہتے ہیں ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھے “۔کراچی کے بعض افسر غلطی کرتے ہیں، بمبئی کی گورنمنٹ بھی ان کی تائید کرتی ہے اور اگر چہ یہ صحیح نہیں لیکن میں فرض کر لیتا ہوں کہ گورنمنٹ آف انڈیا بھی ان کی تائید کرتی ہے اور گورنمنٹ برطانیہ بھی لیکن جب حکومت کی تفاصیل سے کوئی بادشاہ کا تعلق ہی نہیں تو پھر سلور جو بلی پر غصہ کس بات کا ؟ ملک معظم تو صرف محبت کا اور اخلاقی تعلق قائم کرنے والا وجود ہے ورنہ آسٹریلیا والے اپنا علیحدہ قانون بناتے ہیں، کینیڈا والے اپنا علیحدہ بناتے ہیں، اس طرح ہر حصہ حکومت اپنے طور پر آزاد ہے اور بادشاہ کو اس کی حکومت کی تفاصیل سے کوئی تعلق نہیں پھر ایسے وجود پر غصہ جو محض محبت کے قیام کے لئے ہے کس قدر مضحکہ خیز امر ہے۔برطانوی سلطنت میں بادشاہ حکومت کے لئے نہیں بلکہ محبت کے جذبات کے اتحاد کے لئے ہے بھلا ایسے بادشاہ پر جسے حکومت سے کوئی واسطہ نہیں نزلہ گرانا بیوقوفی نہیں تو اور کیا ہے؟ یہ لوگ ظاہر تو یہ کرتے ہیں کہ ہم ماتم کر رہے ہیں لیکن کیا یہ آٹھ کروڑ مسلمانوں کی نمائندگی کے مدعی قسم کھا کر کہہ سکتے ہیں کہ مسلمان سینما میں نہیں جاتے ،شہروں میں جا کر دیکھو ہر سینما میں مسلمان تماش بین زیادہ ہوں گے اگر چہ مسلمان غریب زیادہ ہیں مگر سینما دیکھنے والوں میں بھی زیادہ تعداد انہی کی ہوتی ہے اُس وقت کوئی ماتم یاد نہیں رہتا۔پھر مسلمانوں کے محلہ میں جاؤ فونوگراف اور گراموفون بج رہے ہیں اور گانے ہو رہے ہوں گے۔ابھی احرار کا لدھیانہ میں جلسہ ہوا اور انہوں نے وہاں بڑی شان و شوکت سے جلوس نکالا اُس وقت ماتم کیوں بھول گیا ؟ کسی کا بچہ مر جائے اور وہ خود تو کنچنیوں کا ناچ کرائے لیکن دوسر ا ولیمہ کے لئے بھی بلائے تو کہہ دے میں ماتم میں ہوں تو اسے کون معقولیت قرار دے سکتا ہے۔پس سینماؤں میں مسلمان بکثرت جاتے ہیں اُس وقت انہیں کراچی کا حادثہ یاد نہیں رہتا پھر