خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 301 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 301

خطبات محمود ۳۰۱ سال ۱۹۳۵ء غیرت ہوگی ، یہ کیا غیرت ہے کہ جواب میں خود گالیاں دینے لگ گئے ۔ ایسی مجالس میں جا کر بیٹھنا اور گالیاں سننا بے غیرتی ہے اور گالی دینا کمزوری ہے ان میں سے کوئی بھی ثواب کی چیز نہیں ۔ ثواب یہ ہے کہ تبلیغ کرو میں نے خود نہیں پڑھا سنا ہے الفضل میں نکلا ہے یا شاید کسی اور اخبار میں چھپا ہو ، اگر الفضل میں بھی ہے تو وہ پرچہ میری نظر سے نہیں گزرا کہ کسی مولوی نے کہا اگر میرے پاس روپیہ ہو تو میں خلیفہ قادیان کی بیویوں کو نکال لاؤں ۔ اب اس کے یہ کہہ دینے سے میرا کیا بگڑ گیا ہاں اس نے اپنے متعلق ثابت کر دیا کہ وہ غنڈہ ہے ۔ کبھی کسی نیک اور بزرگ انسان نے بھی کہا ہے کہ فلاں کی بیوی کو نکال لاؤں گا ۔ پس ان الفاظ سے میرا تو کوئی نقصان نہیں ہوتا ہاں کہنے والا خود بد معاش ثابت ہوتا ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں ۔ ایسی باتیں سن کر تمہیں تو لا حول پڑھنا چاہئے کہ مسلمان اس قدر گر گئے ہیں کہ جس قوم کے لیڈر یہ باتیں کرنے والے ہوں وہ قوم کیا باقی رہے گی ۔ جس کے مذہبی لیڈر یہ کہیں کہ ہم دوسروں کی صلى الله عروسہ بیویاں نکال لائیں گے اس کی زندگی کی کیا صورت ہوسکتی ہے ۔ کیا یہی باتیں رسول کریم ﷺ اور صحابہ کرام کے متعلق اُس زمانہ کے کفار نہ کہتے تھے ؟ آج بھی احادیث نکال کر دیکھ لو معلوم ہوگا کہ علو زواج مطہرات کے متعلق تشبیب کیا کرتے تے تھے اُس زمانہ کے عرب شعراء رسول کریم ﷺ کی ازواج ۔اور ان باتوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ لوگ بھی ان کے مثیل ہیں ۔ تمہیں تو ان لوگوں کی ایسی حرکات سے خوش ہونا چاہئے کہ اس بات کا ایک اور ثبوت مل گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام رسول کریم ﷺ کے مثیل تھے جبھی تو یہ لوگ آپ کے دشمنوں کے مثیل بنے ۔ یہ باتیں علمی الاعلان ہو رہی ہیں اور حکومت خاموش ہے اس میں ہماری کوئی ذلت نہیں بلکہ حکومت کی ذلت ہے، مسلمان خاموش ہیں ان ان کی ذلت ہے، ہماری تو عزت ہی عزت ہے جب اس قدر گند دیکھ کر بھی حکومت جس نے قانون بنایا ہوا ہے کہ پخش کلامی اور اخلاق سوز تقریریں اور تحریر میں ، تصویریں اور کارٹون وغیرہ جرم ہیں ، خاموش ہے تو یہ اس کی ذلت ہے۔ یہ باتیں پلیٹ فارموں پر کہی جاتی ہیں ۔ اور پولیس کے ڈائری نویس موجود ہوتے ہیں وہ رپورٹیں لکھتے ہیں لیکن حکومت ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت خود قانون شکنی چاہتی ہے ۔ پھر اس سے یہ ثابت ہے کہ ہمارے دشمنوں کے اخلاق بگڑ گئے ہیں اور اس سے یہ ثابت ہے کہ ہماری ترقی نہ