خطبات محمود (جلد 16) — Page 301
خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء غیرت ہوگی ، یہ کیا غیرت ہے کہ جواب میں خود گالیاں دینے لگ گئے۔ایسی مجالس میں جا کر بیٹھنا اور گالیاں سننا بے غیرتی ہے اور گالی دینا کمزوری ہے ان میں سے کوئی بھی ثواب کی چیز نہیں۔ثواب یہ ہے کہ تبلیغ کرو میں نے خود نہیں پڑھا سنا ہے الفضل میں نکلا ہے یا شاید کسی اور اخبار میں چھپا ہو ، اگر الفضل میں بھی ہے تو وہ پرچہ میری نظر سے نہیں گزرا کہ کسی مولوی نے کہا اگر میرے پاس روپیہ ہو تو میں خلیفہ قادیان کی بیویوں کو نکال لاؤں۔اب اس کے یہ کہہ دینے سے میرا کیا بگڑ گیا ہاں اس نے اپنے متعلق ثابت کر دیا کہ وہ غنڈہ ہے۔کبھی کسی نیک اور بزرگ انسان نے بھی کہا ہے کہ فلاں کی بیوی کو نکال لا ؤں گا۔پس ان الفاظ سے میرا تو کوئی نقصان نہیں ہوتا ہاں کہنے والا خود بدمعاش ثابت ہوتا ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ایسی باتیں سن کر تمہیں تو لا حول پڑھنا چاہئے کہ مسلمان اس قدر گر گئے ہیں کہ جس قوم کے لیڈر یہ باتیں کرنے والے ہوں وہ قوم کیا باقی رہے گی۔جس کے مذہبی لیڈر یہ کہیں کہ ہم دوسروں کی بیویاں نکال لائیں گے اس کی زندگی کی کیا صورت ہو سکتی ہے۔کیا یہی باتیں رسول کریم ﷺ اور الله صحابہ کرام کے متعلق اُس زمانہ کے کفار نہ کہتے تھے ؟ آج بھی احادیث نکال کر دیکھ لو معلوم ہو گا کہ اُس زمانہ کے عرب شعراء رسول کریم ﷺ کی ازواج مطہرات کے متعلق تشبیب کیا کرتے تھے۔اور ان باتوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ لوگ بھی ان کے مثیل ہیں۔تمہیں تو ان لوگوں کی ایسی حرکات سے خوش ہونا چاہئے کہ اس بات کا ایک اور ثبوت مل گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام رسول کریم ﷺ کے مثیل تھے جبھی تو یہ لوگ آپ کے دشمنوں کے مثیل بنے۔یہ باتیں علی الإغلان ہو رہی ہیں اور حکومت خاموش ہے اس میں ہماری کوئی ذلت نہیں بلکہ حکومت کی ذلت ہے، مسلمان خاموش ہیں ان کی ذلت ہے ، ہماری تو عزت ہی عزت ہے جب اس قدر گند دیکھ کر بھی حکومت جس نے قانون بنایا ہوا ہے کہ مخش کلامی اور اخلاق سوز تقریریں اور تحریریں ، تصویریں اور کارٹون وغیرہ جرم ہیں ، خاموش ہے تو یہ اس کی ذلت ہے۔یہ باتیں پلیٹ فارموں پر کہی جاتی ہیں۔اور پولیس کے ڈائری نویس موجود ہوتے ہیں وہ رپورٹیں لکھتے ہیں لیکن حکومت ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت خود قانون شکنی چاہتی ہے۔پھر اس سے یہ ثابت ہے کہ ہمارے دشمنوں کے اخلاق بگڑ گئے ہیں اور اس سے یہ ثابت ہے کہ ہماری ترقی نہ