خطبات محمود (جلد 16) — Page 22
خطبات محمود ۲۲ سال ۱۹۳۵ء مگر اس خیال والوں کے لئے بھی ابھی دو روز باقی ہیں ان میں خدا سے صلح کی کوشش کرو اور اسے مضبوطی کے ساتھ پکڑ لو۔ان ایام کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے انہی قریب اور اگر قریب ہونے پر بھی نہ پکڑا جا سکے تو اور کب پکڑا جائے گا۔اس لئے ایسی مضبوطی سے پکڑو جیسے پنجابی میں اٹھے والا جھا یعنی اندھے کی گرفت کہتے ہیں۔اور جب اللہ تعالیٰ کو اس مضبوطی سے پکڑ لیا جائے تو وہ خود کمزور بن جاتا ہے اور بندے کو طاقتور کر دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ بندوں کے ساتھ ہمیشہ صلح کرتا رہتا ہے۔وہ قرآن میں فرماتا ہے کہ ہم نے نبی بھیجے ، دنیا نے ان کی مخالفت کی مگر ہم برابر نبی بھیجتے رہے۔یہ خود بخود صلح کی کوشش کرنا نہیں تو اور کیا ہے۔کہتے ہیں ایک دھوبی تھا جو ہر روز روٹھ جانے کا عادی تھا۔ایک دن گھر والوں نے کہا کہ آج اسے نہیں منائیں گے۔وہ اپنا بیل ساتھ لے کر چلا گیا اور جب شام تک کوئی منانے نہ آیا تو خود ہی اس کی دم پکڑ کر چل پڑا۔بیل نے گھر کو ہی جانا تھا یہ بھی دم پکڑے جارہا تھا اور کہتا جاتا تھا کہ یار کیا کرتے ہو، کیوں مجھے کھینچ کر گھر لئے جاتے ہو میں نہیں جاؤں گا۔تو ہمارا رب بھی اگر چہ خالق اور مالک ہے اور چاہے تو ایک سیکنڈ کے کروڑ ویں حصہ میں ہمیں تباہ کر دے مگر اپنی محبت میں اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ بندوں سے صلح کرنے اور انہیں معاف کرنے کے بہانے ہی تلاش کرتا ہے اور گویا ز بر دستی بندے کے دل میں داخل ہو جاتا ہے۔چنانچہ دیکھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی وہ زبر دستی آیا حالانکہ مکہ کے لوگ اسے نکالنا چاہتے تھے۔پس ایسے خدا سے خاص کر ان دنوں میں جب کہ وہ کہتا ہے کہ میں قریب ہوں ، ایسی صلح کرو کہ تمہارے دلوں میں، کانوں میں، زبانوں پر سینوں میں اور جسم کے ذرہ ذرہ میں وہ سرایت کر جائے۔اور جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَ فِي بَصَرِي نُورًا وَ اجْعَلُ فِي سَمْعِي نُوْرًا وَاجْعَلُ فِى بَصَرِى نُورًا وَاجْعَلُ فِي كُلِّ أَعْضَائِي نُورًا اَللَّهُمَّ اجْعَلُ أَمَامَى نُورًا وَ اجْعَلْ خَلْفِى نُورًا وَاجْعَلْ يَمِيْنِى نُورًا وَاجْعَلْ يَسَارِى نُورًا وَاجْعَلْ فَوُقِى نُورًا وَاجْعَلْ تَحْتِى نُورًا اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي نُورًا۔تمہارے جسم کے ہر حصہ میں اللہ تعالیٰ کا ہی نور ہو۔قرآن کریم میں آتا ہے کہ اللهُ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضِ ے اور اس لئے اس دعا کا یہ مطلب ہوا کہ خدا ہی خدا ہمارے ہر طرف ہو اور ہم میں اور اس میں فرق نہ رہے اور اگر تم یہ مقام