خطبات محمود (جلد 16) — Page 21
خطبات محمود ۲۱ سال ۱۹۳۵ء تمہارے دلوں میں رہ جائے گا۔ایک شخص سیاہی کو ہاتھ مارے تو سیا ہی لگ جاتی ہے، اگر سرخی کو ہاتھ لگائے تو سرخی لگ جاتی ہے پھر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ رمضان دل میں سے گزرا ہوا ور اس نے اپنے نقش نہ چھوڑے ہوں۔پس سارا سال رمضان سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے اس لئے اپنے اوپر رمضان کی حالت طاری کرو، نیکیوں میں لگ جاؤ، دعائیں کرو، آپس کی لڑائیاں جھگڑے چھوڑ دو اور ہر وقت اپنے مقصود کو مد نظر رکھو۔اس کے باوجود اگر کوئی حاکم یارعایا کا فرد تمہیں خواہ مخواہ دیکھ دینے اور دل دکھانے کی کوشش کرتا ہے تو یہ خیال کر لو کہ کتا تھا جو بھونک گیا ایک وقت آئے گا کہ ایسے حاکموں کی گردنیں خود گورنمنٹ دبوچ لے گی جب ان کی فریب کاریوں کا پردہ فاش ہو گا۔حضرت مسیح موعود کے الہامات سے پتہ چلتا ہے کہ اس حکومت کے ساتھ ہمارا تعاون رہے گا اور اگر ایک ڈپٹی کمشنر یا سپرنٹنڈنٹ پولیس یا کمشنر بھی مخالفت کرتا ہے تو اس کی پرواہ نہ کرو۔وہ بھی تو آخر ایک ماتحت افسر ہی ہے اور ان کی مخالفت میں بھی اصول کو مد نظر رکھو۔میں نے بتایا تھا کہ جو افسر تمہاری عزت نہیں کرتا تم اس کی عزت نہ کرو اور دوسروں کو بھی یہی سمجھاؤ کہ اس کا ادب نہ کریں۔اگر وہ ایک چوہڑے کو بھی تو کہہ کر مخاطب کرتا ہے تو اگر وہ تمہارے سامنے آئے تو اسے تو کہہ کر مخاطب کرو۔اگر وہ گالی دیتا ہے تو مؤمن کا یہ کام تو نہیں کہ گالی دے مگر کم سے کم اس سے اتنی بے رخی سے پیش آؤ کہ اسے ہوش آ جائے۔پھر خو دحکومت انہیں ملامت کرے گی۔مگر یہ باتیں تمہا را اصل مقصود نہیں ہیں۔اصل مقصود نیکی تقویٰ اور تبلیغ ہے۔تم میں سے کتنے ہیں جو تہجد پڑھتے ہیں۔مجھے معلوم ہے کہ مساجد میں بیٹھ کر دوسرے تذکرے کرتے رہتے ہیں اور لغو باتوں میں مصروف رہتے ہیں۔پس پہلے اپنی اصلاح کرو اور مساجد میں ایسی باتیں کرو جو دین کے لئے مفید ہوں جن سے سلسلہ کو مدد ملے ،لغو باتیں نہ کرو۔ہماری مساجد میں ذکر الہی کم ہوتا ہے۔بہت سے ایسے ہیں کہ انہوں نے کبھی ذکر نہیں کیا۔جس طرح اپنے مذہب سے بے پرواہی برتنے والا ہند و نہاتے وقت پانی کی گڑوی او پر پھینکتا اور کود کر خود آگے نکل جاتا ہے۔ان کی نمازوں کی بھی یہی حالت ہے۔پس اللہ تعالیٰ سے محبت اور اخلاص پیدا کرو۔پھر یہ چیزیں یا تو خود بخود چھوٹی نظر آنے لگیں گی۔یا پھر اللہ تعالیٰ ان کے علاج سمجھا دے گا۔رمضان کا مہینہ اب جاتا ہے اور یہ جمعہ جمعۃ الوداع ہے۔اگر چہ مومن کا رمضان تو ہمیشہ رہتا ہے