خطبات محمود (جلد 16) — Page 249
خطبات محمود ۲۴۹ سال ۱۹۳۵ء وہ آخر غالب آتی ہے۔دیکھو! دنیا میں سب کچھ تھا قرآن ،حدیث ، مسلمان اور پھر ان میں صوفی ، اہلِ حدیث ، اہلِ قرآن سب موجود تھے ظاہری بادشاہ ، امیر، فقیر سب موجود تھے تاجر ، سیاست دان ، مد تر سب یہاں بستے تھے پھر وہ کونسی چیز تھی جس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام مبعوث کئے گئے دنیا میں سب کچھ تھا مگر تو حید نہ تھی اللہ تعالیٰ نے تم کو کھڑا کیا اسی لئے کہ تم تو حید خالص دنیا میں قائم کرو۔پس خدا کو ایک سمجھو انسانوں کا رُعب دل سے نکال دو، بندوں سے امیدیں منقطع کر دو اور خدا کے آگے گر جاؤ کہ وہی ہے جو دعائیں سنتا ہے یہ خیال بھی دل میں نہ لاؤ کہ خدا ہماری دعاؤں کو نہیں سنتا۔وہ بادشاہ ہے اور کون ہے جو بادشاہ سے کہہ سکے کہ میری درخواست کیوں منظور نہیں کی گئی۔بادشاہ تو بڑی چیز ہے کسی گورنر بلکہ ڈپٹی کمشنر اور تحصیلدار تک کا دامن کوئی نہیں پکڑ سکتا کہ میری درخواست منظور کیوں نہیں کی گئی پس تم ایسے کہاں کے میں مارخاں ہو کہ خدا سے کسی دعا قبول نہ کرنے کا شکوہ کرتے ہو۔وہ بادشاہ ہے جو چاہے سنے جو چاہے نہ سنے تمہارا کام مانگنا ہے سوتم ما نگتے جاؤ۔یہ تمہاری عبادت ہے اور جب تک یہ مقام حاصل نہ کرو تمہاری دعائیں نہیں سنی جائیں گی خدا تعالیٰ صرف موحد کی دعائیں سنتا ہے بے شک دعائیں کرتے کرتے دس ہیں سو سال گزر جائیں بے شک موت تک تمہاری ایک دعا بھی نہ سنی جائے تب بھی تمہارا فرض ہے کہ خدا سے مانگتے جاؤ۔لوگ آئیں اور روپیہ سے تمہارا دامن بھر جائیں ، آئیں اور تم سے علوم سیکھتے جائیں مگر خدا تمہاری ہر دعا کو رد کرتا جائے اور پھر بھی تم یہ سمجھو کہ جو کچھ مل رہا ہے یہ خدا ہی دے رہا ہے اور خوب یاد رکھو کہ موحد نہیں مرتا جب تک کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ آواز نہ سن لے کہ میں نے تیری سن لی۔مجھے اس پر یقین ہے اور ایسا یقین کہ لعنت کی وعید کے ساتھ قسم کھا سکتا ہوں کہ ملائکہ کی مجال نہیں کہ کسی موحد کی جان نکال لیں جب تک خدا تعالیٰ کی طرف سے اُس کے کان میں یہ آواز نہ پڑے کہ میں نے تیری دعا سن لی ہے۔بچے موحد کی موت پر تو عرش بھی کانپ اُٹھتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ تم موحد بنو اور تو حید پر قائم ہو جاؤ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک الہام ہے خُدُوا التَّوْحِيْدَ خُذُوا التَّوْحِيْدَ يَا أَبْنَاءَ الْفَارِسُ اس میں اول آپ کی جسمانی اولا د مخاطب ہے اور پھر روحانی اور اس میں بتایا گیا ہے کہ تو حید کو ہاتھ سے نہ جانے دو۔پس تم نیکی اور تقویٰ اختیار کرو، نیک نمونہ دکھا ؤ مت ڈرو اس بات سے کہ کوئی کیا کہتا ہے صرف یہ دیکھو کہ خدا کیا کہتا ہے۔اگر تم دنیا کے سامنے بچے اور خدا کے سامنے