خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 248

خطبات محمود ۲۴۸ سال ۱۹۳۵ء سے کچھ نہیں مانگوں گا تب اسے خدا کی آواز آئے گی کہ تو مر گیا اب میں تجھے زندہ کرتا ہوں اور کہتا ہوں مجھ سے مانگ اور وہ جو کہا گیا ہے کہ دعا مانگو وہ اس مقام کے بعد کہا گیا ہے۔تم جو دعائیں مانگتے ہو ان کے متعلق خیال کرتے ہو کہ فلاں قبول نہیں ہوئی حالانکہ اگر خدا کے کہنے کے مطابق دعا مانگتے تو قبول یا عدم قبول کا سوال ہی تمہارے لئے پیدا نہ ہو سکتا۔جب تم شکوہ کرتے ہو کہ فلاں دعا ہماری قبول نہیں ہوئی تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ تم اپنے وجود کو قائم سمجھتے ہو حالانکہ اگر خدا کے کہنے پر دعا مانگی جائے تو قبول نہ ہونے کا شکوہ کیسا۔کوئی شخص کہتا ہے الہی ! میرے گھر بیٹا ہو اور اگر وہ یہ دعا خدا کے حکم کی تعمیل کے لئے کرتا ہے تو نہ ہونے کی صورت میں اسے کیا۔اور اگر اپنے لئے دعا مانگتا ہے تو توحید کہاں ہوئی۔قرآن کریم نے دعا سکھائی ہے کہ رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا وَ اَنْتَ خَيْرًا لُوَارِثِينَ اور جو شخص اس دعا کے مطابق بیٹا مانگتا ہے یہ سوال اس کے لئے پیدا ہی نہیں ہوسکتا کہ قبول ہوئی یا نہیں ہوئی۔مگر تم جود عائیں کرتے ہو وہ سودا کرتے ہو اور سودا غیر سے ہوتا ہے اس صورت میں تو حید باقی نہیں رہ سکتی ایک بزرگ کا واقعہ میں نے کئی دفعہ سنایا ہے کہ ان کا ایک مریدان کے پاس آیا وہ بزرگ تہجد کے وقت اُٹھے اور دعا میں مشغول ہو گئے انہیں الہام ہوا جو مرید نے بھی سنا کہ تو بے شک کتے کی طرح بھونکتارہ تیری دعا نہیں سنی جائے گی۔مرید نے دل میں کہا کہ یہ اچھے پیر ہیں جنہیں ایسی ڈانٹ پڑی ہے لیکن ادب تھا خاموش رہا، دوسرے دن پھر ایسا ہی ہوا مرید نے کہا یہ عجیب آدمی ہے کوئی بھلا مانس ہوتا تو دوبارہ نام نہ لیتا ، تیسرے دن پھر دعا کرنے کے لئے اُٹھے تو مرید نے پکڑ لیا کہ کچھ شرم کرو جانے بھی دو دو روز سے ایسی جھاڑ پڑتی ہے اور پھر آج وہی کام کرنے لگے ہو۔پیر صاحب نے کہا کہ تم جا کر آرام سے بیٹھو تم دو دن میں ہی گھبرا گئے اور میں بیس سال سے یہ آواز سن رہا ہوں اور نہیں گھبرا یا۔اُس دن انہوں نے پھر دعا کی اور الہام ہوا کہ جاہم نے تیری بیس سال کی سب دعائیں سن لیں کیونکہ تو امتحان میں پکا نکلا۔مرید نے پوچھا کہ یہ کیا ہوا ؟ پیر نے کہا خدا نے تجھے تیرا ایمان اور مجھے میرا ایمان بتا دیا ہے۔خدا نے مجھے مانگنے کو کہا ہے اس لئے میں مانگتا ہوں ، میں بندہ ہوں میرا کام مانگنا ہے وہ آقا ہے اُس کا کام مانا یا نہ ماننا ہے یہ تو حید والی دعا تھی جو اس واسطے نہیں کی جاتی کہ خدا سنتا ہے یا نہیں بلکہ اس لئے کی جاتی ہے کہ خدا کا حکم ہے پس توحید کامل سیکھو اور اللہ تعالیٰ سے کامل امید رکھو، بندوں سے تمام امیدوں کو توڑ دو یہ یقین رکھو کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو نیکی اور شرافت دی ہے