خطبات محمود (جلد 16) — Page 236
خطبات محمود ۲۳۶ ۱۴ سال ۱۹۳۵ء اپنے نفسوں کو قربان کر دو اور آستانہ الہی پر گر جاؤ (فرموده ۵ را پریل ۱۹۳۵ء) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔میری تحریک کے مطابق تین روزے ہو چکے ہیں اور اب یہ چوتھے روزہ یعنی وسطی روزہ کا ہفتہ گزر رہا ہے گویا وہ تحریک چند روز میں اپنے شباب کو پہنچنے والی ہے۔یہ سات روزے جو ہماری جماعت کے دوست ہندوستان میں بھی اور باہر بھی رکھیں گے ،ہمیں یقین کرتا ہوں کہ اصلاح حالات میں ممد ہوں گے اور ان لوگوں کے شر کو دور کرنے کا موجب ہوں گے جن کو سلسلہ کی مخالفت کے سوا آج کل کوئی اور شغل ہی نہیں ہے مگر ہمارے دوستوں کو یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ ان سات روزوں کے ساتھ وہ سارے شرور سے بچ جائیں گے بلکہ یہ ایک چلہ دعاؤں کا ہے اور نہ معلوم ایسے کتنے چلے اور ہمیں اختیار کرنے پڑیں گے۔ہمارے دوستوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی اصل غرض ہماری جماعت کے قیام سے یہ ہے کہ ایک مصفی اور پاکیزہ جماعت دنیا میں قائم ہو اور سونے کو صاف کرنے کے لئے کٹھالی میں ڈالنا ضروری ہوتا ہے۔پس یہ ابتلاء ہماری اصلاح کے لئے ہیں اور ہمیں صحیح راستے پر قائم کرنے کیلئے ہیں جس پر چلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرمایا ہم میں سے ابھی بہت ہیں جو اصلاحوں کے محتاج ہیں اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ایسے لوگوں کو یا تو جماعت سے نکال دے اور یا پھر ان کی اصلاح کر دے۔خدا تعالیٰ جماعت کو ایسے مقام پر لے جانا چاہتا ہے جس پر اسے دیکھ کر اپنے اور غیر