خطبات محمود (جلد 16) — Page 17
خطبات محمود ۱۷ سال ۱۹۳۵ء کر دیا ہے کہ گویا اب خطرہ نہیں اور وہ چلے گئے ہیں۔کوئی مجھے مشورہ دیتا ہے کہ ہمارے ساتھ بچے ہیں اس لئے ہم تیر نہیں چل سکیں گے آپ نیچے جائیں آپ کو دیکھ کر لوگ اکٹھے ہو جائیں گے اور آپ اس قابل ہونگے کہ ہماری مدد کر سکیں۔چنانچہ میں نیچے اترتا ہوں اور غرباء میں سے مخلصین کی ایک جماعت کو دیکھتا ہوں اور ان سے کہتا ہوں کہ میں یہاں اس لئے آیا ہوں کہ تا مخلصین اکٹھے ہو جائیں۔تم اوپر جاؤ اور عورتوں اور بچوں کو با حفاظت لے آؤ۔اس پر وہ جاتے ہیں اتنے میں میں دیکھتا ہوں کہ پہلے مرد اترتے ہیں اور پھر عورتیں لیکن میرالڑ کا انور احمد نہیں آیا۔پھر ایک شخص آیا اور میں نے اس کو کہا کہ انور احمد کہاں ہے۔اس نے کہا وہ بھی آ گیا ہے پھر جماعت میں ایک بیداری اور جوش پیدا ہوتا ہے۔چاروں طرف سے لوگ آتے ہیں۔ان جمع ہونے والے لوگوں میں سے میں نے شہر سیالکوٹ کے کچھ لوگوں کو پہچانا ہے۔ان لوگوں کے ساتھ کچھ وہ لوگ بھی آ جاتے ہیں جو باغی تھے اور میں انہیں کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اتحاد کے ذریعہ طاقت دی تھی اگر تم ایسے فتنوں میں پڑے تو کمزور ہوکر ذلیل ہو جاؤ گے۔کچھ لوگ مجھ سے بحث کرتے ہیں۔میں انہیں دلائل کی طرف لاتا ہوں اور یہ بھی کہتا ہوں کہ اس سے جماعت کا تو کچھ نہیں بگڑے گا البتہ اس کے وقار کو جوصدمہ پہنچے گا اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور تم ذمہ دار ہو گے۔اس پر بعض لوگ کچھ نرم ہوتے ہیں لیکن دوسرے انہیں پھر ورغلا دیتے ہیں اور اسی بحث مباحثہ میں میری آنکھ کھل جاتی ہے۔اس رؤیا کے کئی حصوں سے معلوم ہوتا ہے یہ واقعات میری وفات کے بعد کے ہیں وَ اللهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ اور اس موقع پر اس رؤیا کا آنا شاید اس امر پر دلالت کرتا ہو کہ مجھے جماعت کو آئندہ کے لئے ہوشیار کر چھوڑ نا چاہئے کیونکہ زندگی کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔اس رؤیا سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ میرے ساتھ تعلق رکھنے والے خواہ تھوڑے ہوں اپنے دشمنوں پر غالب آئیں گے۔اِنشَاءَ اللہ۔جب میں ابھی بچہ تھا اور خلافت کا کوئی وہم و گمان نہ تھا۔یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں اُس وقت بھی اللہ تعالیٰ نے مجھے خبر دی تھی۔اِنَّ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ یعنی تیرے ماننے والے اپنے مخالفوں پر قیامت تک غالب رہیں گے۔اس وقت میں یہی سمجھتا تھا کہ یہ الہام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق ہے کیونکہ میرے اتباع کا تو خیال بھی میرے ذہن میں نہ آ سکتا تھا کہ کبھی ہوں گے۔یہ عبارت قرآن کریم کی ایک آیت سے لی گئی ہے جو حضرت مسیح ناصرٹی کے متعلق ہے مگر آیت