خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 213 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 213

خطبات محمود الله سال ۱۹۳۵ء اگر جلدی نہ بھی قبول کی گئی تو یہ امر اس کے ایمان کی کمزوری کا موجب نہیں ہو سکتا لیکن کمزور کی طرف وہ فوراً سیکتی ہے کہ ایسا نہ ہوا سے ٹھوکر لگ جائے اسلئے دعا کرنے میں بہر حال گل جزو سے زیادہ اہم ہے اور گل میں طاقتور اور کمزور دونوں شامل ہیں اس لئے میں نے خواہش ظاہر کی تھی کہ تمام جماعت ایک وقت میں ایک ہی قسم کی دعائیں کرے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ جماعت ہی ہی۔ ہوں کہ جماعت کا ایک بہت بڑا حصہ اس سے اخبارات کی سُستی کے باعث محروم رہا ہے ۔ مجھے خود مجھے خود بھی ان ایام میں وقت نہیں مل سکا کہ میں ۔ بار بار توجہ دلاؤں ۔ آٹھ دس روز تک میں ارادہ کرتا رہا کہ دوستوں کو اخبار کے ذریعہ دوبارہ توجہ دلاؤں مگر اس کے لئے موقع نہ مل سکا اس لئے میں اس خطبہ کے ذریعہ پھر جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ اس تحریک کو معمولی بات نہ سمجھیں بلکہ جتنے لوگ بھی روزہ کی طاقت رکھتے ہیں سب رکھیں اور جن سے یہ روزہ رہ گیا ہے وہ بعد میں رکھ لیں ۔ سات روزے پھیلا کر میں نے اس لئے مقرر کئے تھے کہ ہندوستان سے باہر کے لوگ بھی اس میں کچھ نہ کچھ حصہ لے سکیں ۔ میں نے دو ہفتہ پہلے اعلان کیا تھا اور دو ہفتہ میں بہت سے بیرونِ ہند کے مقامات پر ڈاک پہنچ جاتی ہے ۔ پھر کئی لوگوں کو ان کے دوست ہوائی ڈاک سے اطلاع دے دیتے ہیں پھر قریباً ساری دنیا میں ایک ماہ کے اندر اندر ڈاک پہنچ جاتی ہے اور اس طرح ایسے مقامات کے لوگ زیادہ سے زیادہ دو روزوں میں شریک نہ ہو سکتے اور پانچ میں وہ بھی شریک ہو سکتے اور باقی دو وہ اپنے اپنے ملک کے لحاظ سے اجتماعی طور پر رکھ لیتے ۔ پس جو لوگ استطاعت است رکھتے ہوں وہ یہ روزے ضرور رکھیں ۔ باقی رہی دعا سو وہ روزوں سے سے مح مخصوص نہیں ۔ روزانہ ہونی چاہئے اور اس کے لئے بچوں اور عورتوں میں بھی تحریک کی جائے ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کوجود عا سکھائی کہ رَبِّ كُلُّ شَيْئِی خَادِمُكَ رَبِّ فَاحْفَظُنِي وَانْصُرْنِي وَارْحَمْنِی ہے۔ اس کے متعلق فرمایا کہ یہ اسم اعظم ہے اور ہر مصیبت سے نجات کا ذریعہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اس زمانہ کے لئے اسمِ اعظم قرا م قرار دیا ہے ۔ اسمِ اعظم ہر زمانہ کے لئے الگ الگ ہو۔ الگ ہوتے ہیں اگر اس بات کو تسلیم نہ کیا جائے تو ماننا پڑے گا کہ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں اسم اعظم کوئی نہ تھا حالانکہ کوئی نعمت ایسی نہیں جو محمد رسول ا رسول اللہ لیا اور آپ کے صحابہ کو نہ ملی ہو پس ماننا پڑے گا کہ ہر زمانہ میں اسم اعظم الگ ہوتا ہے۔ محمد رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں آپ کے حالات کے مطابق تھا اور اس زمانہ میں موجودہ حالات کے مطابق ، اللہ تعالیٰ کی صفات مختلف دوروں سے تعلق رکھتی ہیں صلى یں یہ