خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 181

خطبات محمود ۱۸۱ سال ۱۹۳۵ء قوموں پر حملہ کے وقت چھوٹے اور بڑے سب اپنی جان اور اپنے مال لٹانے پر آمادہ ہو جاتے ہیں ، تم بتاؤ کہ کیا تم نے اسی طرح خدا تعالیٰ کے دین کے لئے اپنی جانیں قربان کیں۔تمہارے سامنے خدا تعالیٰ کی کھیتیاں برباد کی جارہی ہیں، تمہارے سامنے خدا تعالیٰ کی عبادت گا ہیں مٹائی جا رہی ہیں، تمہارے سامنے اس کے نام کی بے حرمتی کی جارہی ہے، تم بتاؤ کیا تم نے وہ قربانی کی جو اپنے بچہ کے لئے ماں اور اپنے ملک کے لئے سپاہی کیا کرتا ہے۔جب تم کہتے ہو کہ تمہارے سوا دنیا کی اور کوئی قوم خدا تعالیٰ کی دوست نہیں تو تمہاری ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہے۔اگر تم یقین رکھتے کہ عیسائی بھی خدا تعالیٰ کے دوست ہیں، اگر تم یقین رکھتے کہ ہند و خدا تعالیٰ کے دوست ہیں، اگر تم یقین رکھتے کہ زرتشتی بھی خدا کے دوست ہیں، تو تم کہہ سکتے تھے ظلمت و تاریکی کو وہ لوگ دور کر لیں گے کفر کی جو آگ بھڑک رہی ہے اسے وہ لوگ بجھائیں گے مگر تمہارا تو یہ دعوی ہے کہ تم مِنْ دُونِ النَّاسِ اَوْلِيَاءُ لسلہ ہو پھر یہ جو خدا تعالیٰ کے نور کی بے حرمتی کی جارہی ہے اس کی کھیتی کو کاٹا جاتا اور اس کے نام پر جنسی اُڑائی جاتی ہے اس کا تم نے کیا علاج کیا ؟ اگر تم اس کے دوست ہوتے تو کیا ممکن تھا کہ تم ایسے نازک موقع پر خاموش ہو کر بیٹھے رہتے۔فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ إِن كُنتُم صدِقِينَ پس اگر تم سچے ہو تو آؤ اور اپنی جانیں اور اپنے اموال خدا تعالیٰ کی راہ میں لوٹا کر اپنے آپ پر موت وارد کرو۔اگر تم خدا تعالیٰ کے جلال کے لئے اپنی جانیں نہیں دیتے ، اگر تم خدا تعالیٰ کے جلال کے لئے اپنے اموال ایک حقیر چیز کی طرح نہیں لٹا دیتے تو معلوم ہوا کہ تو رات تمہارے اندر نہیں اور نہ اپنے دعوئی محبت میں تم سچے ہو کس طرح ہوسکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا نور تمہارے اندر ہو مگر جب اس کے نور کومٹانے کے لئے دنیا میں کوششیں کی جا رہی ہوں تو تمہارے اندر قربانی کا جوش پیدا نہ ہو۔دیکھو یہ وہ معیار ہے جو قطعی اور یقینی ہے اس کے ماتحت معلوم ہو سکتا ہے کہ کونسی قوم اپنے دعوے میں سچی ہے اور کونسی نہیں۔میں اپنی جماعت سے بھی کہنا چاہتا ہوں کہ دیکھو تم بھی کہتے ہو کہ ہم مِن دُونِ النَّاسِ أَوْلِيَاءُ اللہ ہیں، تمہارا بھی دعوئی یہی ہے کہ آج سوائے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لانے کے نجات نہیں پس معلوم ہوا کہ تم بھی اس بات کے مدعی ہو کہ اولیاء اللہ تم ہی ہو اور تمہارے سوا اور کوئی خدا کا پیارا نہیں ورنہ کس طرح ممکن ہے کہ خدا کا کوئی اور بھی پیارا ہو اور نجات صرف تمہارے لئے مقدر ہو۔اگر کوئی اور قوم بھی اس وقت خدا تعالیٰ کی پیاری ہے تو نجات صرف تمہارے لئے مقدر نہیں ہوسکتی