خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 165

خطبات محمود ۱۶۵ سال ۱۹۳۵ء میرے مخالف گویا یہ تسلیم کرتے ہیں کہ میری باتیں میری نہیں بلکہ خدا کی سکھائی ہوئی ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ جو لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام کی کتب پڑھتے ہیں وہ مانتے ہیں کہ ان میں بڑا علم ہے حالانکہ آپ کے دشمن آپ کو جاہل کہتے ہیں ۔ آپ کا درجہ تو بڑا ہے ہم جو آپ کے ادنیٰ خدام ہیں ہمارے ساتھ بھی اس کا یہی معاملہ ہے ، مجھے اپنے اور بیگانے جاہل کہتے چلے آئے ہیں لیکن چند سال ہوئے فرانس کی رائل ایشیاٹک سوسائٹی نے جو بہت وقیع سوسائٹی ہے اور جس کی ممبر شپ کا اظہار لوگ فخریہ طور پر اپنے ناموں کے ساتھ کرتے ہیں میری کتاب ”’ احمدیت کا حوالہ دے کر اسلام کے متعلق ایک مضمون لکھا اور میری کتاب کے متعلق لکھا کہ اسلام کے متعلق وہ تصنیف اہم ترین ہے ۔ پس میں گو جاہل ہوں مگر ایسی بانسری ہوں جو خدا تعالیٰ کے منہ میں ہے اور خدا تعالیٰ کی آواز پہنچانے والی بانسری کے متعلق کون کہہ سکتا ہے کہ یہ حقیر لکڑی ہے ، حقیر لکڑی بھی خدا تعالیٰ کا آلہ بن کر بڑی قیمتی ہو جاتی ہے۔ لوگ پرانے بادشاہوں کی تلواروں کو بڑی حفاظت سے رکھتے ہیں حالانکہ وہ کسی خاص لوہے کی بنی ہوئی نہیں ہوتیں ان کی فضیلت اسی وجہ سے ہوتی ہے کہ وہ خاص ہاتھوں میں استعمال کی جا چکی ہیں پھر جو تلوار اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہوا سے فضیلت کیوں نہ ہو گی ۔ بے شک ہے تو وہ لوہا مگر خدا کے ہاتھ میں ہے ۔ حضرت خالد بن ولید کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سیف منُ سُيُوفِ الله نے کہا تو کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ ان کی ہتک کی گئی ہے انہیں لوہا کہا گیا ہے جو بے جان چیز ہے کیونکہ جو لوہا خدا کے ہاتھ میں ہو وہ حقیر نہیں ہو سکتا اسے خدا نے نوازا ہے ۔ پس صرف جاہل کہہ دینے سے کچھ نہیں بنتا د یکھنے والی بات یہ ہے کہ کام عالموں والے ہیں یا نہیں ہیں اگر ہیں تو ماننا پڑے گا کہ کسی عالم ہستی کے ساتھ تعلق ہے ۔ پھر وَاللهُ ذُوا الْفَضْلِ الْعَظِيمِ فرما کر یہ بتایا ہے کہ جن لوگوں پر یہ فضل ہؤا دوسروں کو ان پر ناراض ہونے اور بگڑنے کی ضرورت نہیں ہم جسے چاہیں یہ فضل دے سکتے ہیں، وَاللهُ ذُوا الْفَضْلِ الْعَظِيمِ اللہ تعالیٰ بڑے فضلوں والا ہے اگر اس نے دینی علوم اپنے مسیح موعود یا خلفاء کو دیئے ہیں تو تمہیں اس پر غصہ ہونے اور حسد کرنے کی ضرورت نہیں اللہ تعالیٰ ویسے ہی فضل تم پر بھی کر سکتا ہے۔ حسد کی گنجائش وہاں ہوتی ہے جہاں ساری چیز ہی دوسرا لے جائے اور اپنے لئے اسے حاصل کرنے کا کوئی موقع نہ رہے مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کے فضل ختم نہیں ہوتے ۔ آؤ اس کے مسیح پر ایمان لے آؤ اور یہی علوم تم بھی حاصل کر سکو گے ۔حسد تو وہاں ہوتا ہے