خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 161 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 161

خطبات محمود 171 سال ۱۹۳۵ء ایشیا والوں نے یہی تسلیم کیا ہے ، ایرانیوں نے یہی تسلیم کیا ہے ، مسلمان ابی سینیا میں پہنچے اور وہاں کے لوگوں نے مان لیا کہ یہ اب کچھ اور ہی ہو گئے ہیں۔مصر میں گئے ، ہندوستان میں آئے اور اسی تبدیلی کی وجہ سے جو رسول کریم ﷺ نے ان میں پیدا کر دی تھی لوگ انہیں پہچان نہ سکے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کے اندر یہ چاروں باتیں پیدا ہو گئیں انہیں ملکیت بھی حاصل ہوئی، قدوسیت ، عزیزیت اور حکیمیت بھی۔مؤمن کی ملکیت کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ اس کے پاس بڑی فوجیں ہوں ، خزانے ہوں، وسیع سلطنت زیر نگیں ہو، یونیورسٹیاں جاری ہوں بلکہ اس کی حکومت روحانی ہوتی ہے۔رسول کریم اللہ نے ان لوگوں کو خدا کی آیات سنائیں ، اس کی صفات کھول کر بیان کیں اور انہوں نے ان کو اپنے اندر جذب کر لیا اور اس طرح وہ بھی روحانیت کے بادشاہ ہو گئے۔آپ نے ان کو قدوسیت کی باتیں سکھائیں اور ان کو پاک کر دیا اور وہ خود بھی پاک ہو گئے اور دوسروں کو بھی پاک کرنے والے بن گئے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ عزیز ہے رسول کریم ﷺ نے ان کے اندر بھی عزیزیت پیدا کی۔آپ نے ایک قانون مقرر کر دیا کہ فجر کے وقت نماز پڑھنی ہے اب ہر صبح ہر ایک مؤمن اُٹھتا ہے اور نماز پڑھتا ہے، ظہر کی نماز ہے جب اس کا وقت ہو سب مؤمن نماز میں لگ جاتے ہیں ، پھر عصر کے وقت ایک خاص طرز پر نماز پڑھنے کا حکم ہے جو وقت مقررہ پر ہمیشہ پڑھی جاتی ہے پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سکھائی ہوئی عبادت میں ایسا استقلال ہے اور احکام ایسے واضح ہیں کہ انسان ادھر ادھر نہیں ہو سکتا اور یہ عزیزیت ہے ہر مسلمان اپنے نفس کے گھوڑے پر مضبوطی سے سوار اسے خدا کی طرف دوڑائے لئے جا رہا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں کیلئے عَلى هُدًى مِنْ رَّبِّهِمْ سے فرمایا ہے یعنی مؤمن ہدایت پر سوار ہے اور نفس کے گھوڑے کو قابو میں رکھتے ہوئے نیکی اور تقویٰ کی راہ پر لئے جا رہا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ حکیم ہے اور رسول کریم ﷺ نے صحابہ کو حکمت کی باتیں سکھائیں اور ان کے اندر ایسا عرفان پیدا کر دیا، ایسی عظمندی سکھائی کہ مؤمن بے وقوفی کی باتیں کرتا ہی نہیں۔اسے جوش آتا ہے تب بھی عقل قائم رہتی ہے اور محبت کے جذبات غالب ہوتے ہیں تب بھی عقل قائم رہتی ہے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ مؤمن اگر کسی سے محبت کرتا ہے تو ایسے رنگ میں کہ خیال رکھتا ہے ممکن ہے کل یہ میرا دشمن ہو جائے اور اگر کسی سے دشمنی رکھتا ہے تو اس خیال سے کہ ممکن ہے کل یہ میرا دوست ہو جائے ۵ گویا وہ