خطبات محمود (جلد 16) — Page 123
خطبات محمود ۱۲۳ سال ۱۹۳۵ء نہیں ایسی باتیں ہوتی ہیں۔چین میں کئی ایسے علاقے ہیں جہاں ایسی باتیں ہوتی ہیں ،مہذب ممالک میں بھی بعض قسم کے مظالم جاری ہیں، یورپ میں سوشلسٹ امراء کو اتنا غلبہ دیتے ہیں کہ غرباء ترقی نہیں کر سکتے پھر مذہبی لحاظ سے بھی ایسی زبر دستیاں حکومتوں کی طرف سے کی جاتی ہیں۔افغانستان میں ہمارے چار آدمی محض احمدی ہونے کی وجہ سے سنگسار کر دیئے گئے۔ان کا قصور صرف اتنا تھا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی آواز کو سنا اور اس زمانہ کے مامور کو قبول کر لیا۔ان کی شہادت کے واقعات کا بعض یوروپین مصنفوں نے ذکر کیا ہے اٹلی کے ایک انجینئر نے اپنی تصنیف Under The Absolute Amir میں لکھا ہے کہ صاحبزادہ عبد الطیف کا کوئی جرم نہ تھا اور امیران کے خلاف سوائے اس کے کچھ نہ کہہ سکتا تھا کہ اس نے جہاد کا انکار کیا ہے کے جس سے میری طاقت کمزور ہوتی ہے اگر مسلمانوں میں سے جہاد کی روح نکل جائے تو میری طاقت ٹوٹ جائے گی اور اسی وجہ سے آپ کو سنگسار کرا دیا گیا۔تو دنیا کی حکومتیں باوجود مسلک ہونے کی مدعی ہونے کے مذہبی طور پر بھی ، سیاسی اور تمدنی طور پر بھی سختیاں کرتی ہیں۔بعض لوگ اس قانون کو جو حکومت ہند نے ایک خاص عمر سے پہلے لڑکے لڑکیوں کی شادی نہ کرنے کے متعلق پاس کیا ہے مذہبی سختی قرار دیتے ہیں۔لڑکی میں سب کو انگریزی ٹوپی پہنے پر مجبور کیا جاتا ہے جو تمدنی سختی ہے کانگرس والے ہر اُس شخص کے مخالف ہیں جو کھڈ رنہ پہنے یہ بھی تمدنی تصرف کی ایک مثال ہے جو ایک طبقہ دوسرے پر کرتا ہے پھر کئی تعلیمی جبر ہوتے ہیں دو مختلف اللسان اقوام ایک ملک میں بستی ہیں اور حکومت چاہتی ہے کہ ایک زبان کو مٹا دے اور دوسری کو پھیلائے اور وہ قانون سے مدد لے کر ایسا کر لیتی ہے۔ہندوستان میں ہندی کو رواج دینے اور اردو کو مٹانے کی کوششیں ہو رہی ہیں ، مشرقی یورپ میں کئی حکومتیں دوسری زبانوں کو مٹانے میں لگی ہیں ، یہ ملکیت کا علمی لحاظ سے ناجائز استعمال ہے غرضیکہ دنیوی ملکیت کئی قسم کے اعتراضات کے نیچے آتی ہے۔کبھی اس پر تمدنی، کبھی علمی، کبھی سیاسی اور کبھی مذہبی نقطہ نگاہ سے اعتراض کئے جاتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ یعنی اللہ تعالیٰ کی بادشاہت کو دیکھو صاف نظر آتا ہے کہ اس کی بادشاہت پر کوئی اعتراض نہیں پڑ سکتا۔خدا کی حکومت کو دیکھو، ابوجہل پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے مگر اس کا سورج برابر اسے روشنی پہنچاتا ہے، اللہ تعالی کی ہوائیں بدستور اسے فائدہ پہنچاتی ہیں