خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 103 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 103

خطبات محمود ۱۰۳ سال ۱۹۳۵ء پھر ہم تو یہیں بیٹھے ہیں مگر باوجود اس عیب کے قرآن مجید موسیٰ کی جماعت کا نمونہ پیش کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اے صحابیو! جب تک تم موسیٰ کی جماعت کی طرح نہ ہو جاؤ اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتے ۔ گویا ایک طرف ان کے عیب کا اظہار کرتا ہے اور دوسری طرف ان کی تقلید کا حکم دیتا ہے ۔ جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بعض عیب کمال کے منافی نہیں ہوتے یہی يُكَفِّرُ عَنْكُمْ سَيِّاتِكُمْ کے معنی ہیں پس نیکی کے ساتھ بدی کا پایا جانا انسان کو بد نہیں بنا تا جیسے صحت کے ساتھ بیماری انسان کو بیمار نہیں بناتی بیماری کا غلبہ انسان کو بیمار بناتا ہے اسی طرح بدی کا غلبہ انسان کو بد بنا تا ہے ۔ پس حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جماعت کا ایک عیب قرآن مجید بیان کرتا ہے مگر چونکہ بعد میں وہ جماعت سنبھل گئی اس لئے مسلمانوں سے کہا کہ جب تک تم موسیٰ کی قوم کی طرح نہ ہو جاؤ تمہارا ترقی کرنا محال ہے ممکن ہے کہ یہ آیت عام طور پر لوگوں کے ذہن میں نہ آتی ہو مگر کیا درود میں ہم روزانہ یہ نہیں کہتے کہ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ - کیا آل ابراہیم میں یوسف کے بھائی شامل نہیں اور کیا آل ابراہیم میں حضرت موسیٰ کی قوم شامل نہیں ۔ اگر ہے تو جب ہم روزانہ یہ کہتے ہیں کہ اے خدا ! رسول کریم ﷺ کی امت پر وہ فضل کر جو ابراہیم اور موسیٰ کی امت پر تو نے کیا تو کیا ہم اقرار نہیں کرتے کہ ہر کمزوری انسان کو برا نہیں بنا دیتی وہ کمزوریاں جن پر انسان ان غالب آ جائے یا وہ جو وقتی جوش کے ماتحت سرزد ہوں یا وہ جو اجتہادی غلطی سے سرزد ہوں لیکن انسان بحیثیت مجموعی دینی احکام کا تابع ہو اور غلطیوں پر غالب آنے کے لئے کوشش کر کر رہا رہا ہو ہو اور اور ظالم ظالم نہ ہو اور بدنیت نہ ہو اور ملتِ اسلامیہ کا غدار نہ ہو ایسی کمزوریاں انسان کو نہ معتوب بناتی ہیں اور نہ اسے بدکار ثابت کرتی ہیں ۔ پس کسی جماعت کے متعلق چند غلطیوں کا گنا نا دینا اور اس کا نام خدا ا تعالیٰ تعالیٰ کا کا عذا عذاب اور اس کی سزا رکھ دینا اس سے سے زیادہ زیادہ ظلم ظلم اور اور کوئی کو نہیں ہو سکتا ۔ مجھ سے اس دوست نے ز نے زبانی گفتگو بھی کی اگر اگر چہ وہ نہایت ہی مختصر گفتگو تھی اور ہم اس وعدہ پر اُٹھے تھے کہ دوبارہ اس موضوع پر گفتگو کریں گے مگر جس قدر گفتگو ہوئی اس سے میں نے یہ سمجھا کہ گو وہ عذاب کا لفظ اپنی زبان پر نہیں لاتے تھے مگر اس کی جو تشریح کرتے وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب اور سزا کی ہی ہوتی تھی اور الفاظ کے بدلنے سے کسی چیز کی حقیقت نہیں بدل سکتی ۔ میں ان کی گفتگو سے جو سمجھا وہ یہ تھا کہ ان کے نزدیک ہماری جماعت کی موجودہ مشکلات خدا تعالیٰ کا عذاب ہے جو ہم پر آرہا ہے :