خطبات محمود (جلد 16) — Page 102
خطبات محمود ۱۰۲ سال ۱۹۳۵ء پوچھا کہ یہ کیا کیا ؟ تو وہ کہنے لگا بادشاہ سلامت میری آنکھوں میں تو یہی بچہ سب سے زیادہ خوبصورت ہے تو بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ اپنے ساتھ تعلق رکھنے والے لوگوں کے عیوب انہیں نظر نہیں آتے ؟ اگر میں بھی ایسا ہی ہوتا تو ممکن تھا کہ میں اپنی جماعت کے عیوب نہ دیکھتا اور دوسرے لوگوں کو وہ نظر آجاتے لیکن جماعت کے عیب دیکھنے میں جماعت کا ایک فرد بھی ایسا نہیں جو مجھ سے بڑھا ہوا ہو۔سوائے منافقوں کے کہ انہیں ہمیشہ عیب ہی عیب نظر آتے ہیں اور خوبی کی کوئی بات دکھائی نہیں دیتی۔پس میں نے کبھی کمی نہیں کی جماعت کے عیب ظاہر کرنے میں کبھی کمی نہیں کی جماعت کو تنبیہ کرنے میں اور کبھی کمی نہیں کی اسے کھلے اور واضح الفاظ میں نصیحت کرنے میں لیکن باوجود اس کے میں اس یقین پر قائم ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت اخلاص اور تقویٰ پر قائم ہے اور اس کے نو وارد اور نوجوان بھی بہت کچھ ترقی کر رہے ہیں۔بے شک ان میں کمزور بھی ہیں اور بیشک ہم میں سے جو کامل انسان بھی ہے اس میں بھی کوتاہیاں ہیں کیونکہ آخر محمد اللہ جیسا کامل تو کوئی ہو نہیں سکتا جو سارے عیوب سے پاک ہو۔بہر حال رسول کریم ﷺ سے نیچے ہی ہو گا پس اپنے درجہ تکمیل کے لحاظ سے اس میں غلطیاں اور کمزوریاں بھی پائی جائیں گی۔ان غلطیوں پر تنبیہ کرنا خلفاء کا کام ہے یا خلفاء کی طرف سے مقرر شدہ قاضیوں، مفتیوں اور مبلغوں کا کام ہے کہ وہ نصیحت کریں بلکہ کوئی شخص جس کے دل میں جماعت کی ترقی کی ذرہ برابر بھی خواہش ہو وہ اپنے میں سے کسی فرد کا عیب دیکھ کر خاموش نہیں رہ سکتا اور ہم لوگ یہ کام کرتے ہی رہتے ہیں مگر یہ چیزیں کمال کے منافی نہیں ہوتیں۔ایک حد تک کامل ہوتے ہوئے بھی انسان میں بعض کمزوریاں رہ جاتی ہیں۔قرآن مجید میں ہی دیکھ لو رسول کریم کی جماعت کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم لوگوں پر جب تک پہلے لوگوں کی طرح تکالیف نہ آئیں ، اور تم ان لوگوں کی طرح مصائب پر ثابت قدمی نہ دکھاؤ اور ان کی طرح خدا تعالیٰ کے راستہ میں جانیں قربان کرنے کے لئے تیار نہ ہو اس وقت تک تم خدا تعالیٰ کے فضلوں کے وارث نہیں ہو سکتے۔اس قسم کی آیات سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ پہلے لوگ زیادہ کامل تھے۔مگر کیا وہی قرآن حضرت موٹی کی جماعت کے متعلق یہ نہیں بتاتا کہ اس نے ایک نہایت ہی نازک موقع پر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہہ دیا کہ اِذْهَبُ اَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَاإِنَّا هَهُنَا قَاعِدُونَ پس کیا خدا تعالیٰ نے موسیٰ کی جماعت کے عیب کو ظاہر نہیں کیا کہ انہوں نے کہہ دیا جا تو اور تیرا رب دشمنوں سے لڑائی کرتا