خطبات محمود (جلد 16) — Page 100
خطبات محمود الله سال ۱۹۳۵ء یہ مطلب نہ تھا کہ آپ نے اُمورِ نبوت میں اس سے مشورہ لیا۔جنگ احزاب ہوئی تو اُس وقت رسول کریم ﷺ نے سلمان فارسی سے مشورہ لیا اور فرمایا کہ تمہارے ملک میں جنگ کے موقع پر کیا کیا جاتا ہے انہوں نے بتایا کہ ہمارے ملک میں تو خندق کھود لی جاتی ہے۔آپ نے فرمایا یہ بہت اچھی تجویز ہے چنانچہ خندق کھودی گئی اور اسی لئے اسے غزوہ خندق بھی کہا جاتا ہے۔مگر باوجود اس کے ہم نہیں کہہ سکتے کہ سلمان فارسی فنون جنگ میں رسول کریم ﷺ سے زیادہ ماہر تھے۔انہیں فنونِ جنگ میں مہارت کا وہ مقام کہاں حاصل تھا جو محمد ﷺ کو حاصل تھا۔یامحمد ﷺ نے جو کام کئے وہ کب حضرت سلمان نے کئے بلکہ خلفاء کے زمانہ میں بھی انہیں کسی فوج کا کمانڈرانچیف نہیں بنایا گیا حالانکہ انہوں نے لمبی عمر پائی۔تو ایک اکسپرٹ خواہ وہ غیر مذہب کا ہو اس سے بھی مشورہ لیا جا سکتا ہے۔میں جب بیمار ہوتا ہوں تو انگریز ڈاکٹروں سے بعض دفعہ مشورہ لے لیتا ہوں مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ خلافت میں میں نے ان سے مشورہ لیا۔یا یہ کہ میں انہیں اسی مقام پر سمجھتا ہوں جس مقام پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ کو سمجھتا ہوں بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ میں نے طب میں مشورہ لیا۔پس فرض کر وسعد بن عبادہ سے کسی دنیوی امر میں جس میں وہ ماہر فن ہوں مشورہ لینا ثابت ہو تب بھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ مشوروں میں شامل ہوتے تھے مگر ان کے متعلق تو کوئی صحیح روایت ایسی نہیں جس میں ذکر آتا ہو کہ وہ مشوروں میں شامل ہوتے تھے بلکہ مجموعی طور پر روایات یہی بیان کرتی ہیں کہ وہ مدینہ چھوڑ کر شام کی طرف چلے گئے تھے اور صحابہ پر یہ اثر تھا کہ وہ اسلامی مرکز سے منقطع ہو چکے ہیں اسی لئے ان کی وفات پر صحابہ کے متعلق آتا ہے کہ انہوں نے کہا فرشتوں یا جنوں نے انہیں مار دیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کے نزدیک ان کی موت کو بھی اچھے رنگ میں نہیں سمجھا گیا کیونکہ یوں تو ہر ایک کو فرشتہ ہی مارا کرتا ہے۔ان کی وفات پر خاص طور پر کہنا کہ انہیں فرشتوں نے یا جنوں نے مارد یا بتا تا ہے کہ ان کے نزدیک وفات ایسے رنگ میں ہوئی کہ گویا خدا تعالیٰ نے انہیں اپنے خاص فعل سے اٹھا لیا کہ وہ شقاق کا موجب نہ ہوں۔یہ تمام روایات بتلاتی ہیں کہ ان کی وہ عزت صحابہ کے دلوں میں نہیں رہی تھی جو ان کے اس مقام کے لحاظ سے ہونی چاہئے تھی جو کبھی انہیں حاصل تھا اور یہ کہ صحابہ ان سے خوش نہیں تھے ورنہ وہ کیونکر کہہ سکتے تھے کہ فرشتوں یا جنوں نے انہیں مار دیا بلکہ ان الفاظ سے بھی زیادہ سخت الفاظ ان کی وفات پر کہے گئے ہیں جنہیں میں اپنے منہ سے کہنا نہیں