خطبات محمود (جلد 16) — Page 99
خطبات محمود ۹۹ سال ۱۹۳۵ء بجائے تنزل کے ترقی کی طرف قدم بڑھائے گی اور وہ مخفی حکمت بھی پوری ہو جائے گی جس کے لئے خلیفہ کے دل میں ذہول پیدا کیا گیا تھا۔مگر انبیاء کو یہ دونوں باتیں حاصل ہوتی ہیں۔یعنی عصمت کبری بھی اور عصمت صغریٰ بھی۔وہ تنفیذ و نظام کا بھی مرکز ہوتے ہیں اور وحی و پاکیزگی اعمال کا مرکز بھی ہوتے ہیں۔مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر خلیفہ کے متعلق ضروری ہے کہ وہ پاکیزگی اعمال کا مرکز نہ ہو۔ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ پاکیزگی اعمال سے تعلق رکھنے والے بعض افعال میں وہ دوسرے اولیاء سے کم ہو۔پس جہاں ایسے خلفاء ہو سکتے ہیں جو پاکیزگی اعمال کا مرکز ہوں اور نظام سلسلہ کا مرکز بھی ، وہاں ایسے خلفاء بھی ہو سکتے ہیں جو پاکیزگی اور ولایت میں دوسروں سے کم ہوں لیکن نظامی قابلیتوں کے لحاظ سے دوسروں سے بڑھے ہوئے ہوں۔مگر ہر حال میں ہر شخص کے لئے ان کی اطاعت فرض ہوگی چونکہ نظام کا ایک حد تک جماعتی سیاست کے ساتھ تعلق ہوتا ہے اس لئے خلفاء کے متعلق غالب پہلو یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہ نظامی پہلو کو برتر رکھنے والے ہوں۔گو ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ دین کے استحکام اور اس کے صحیح مفہوم کے قیام کو بھی وہ مد نظر رکھیں اس لئے خدا تعالیٰ نے قرآن مجید میں جہاں خلافت کا ذکر کیا وہاں بتایا ہے کہ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ خدا ان کے دین کو مضبوط کرے گا اور اسے دنیا پر غالب کر دیگا۔پس جو دین خلفاء پیش کریں وہ خدا تعالیٰ کی حفاظت میں ہوتا ہے مگر یہ حفاظت صغری ہوتی ہے۔جزئیات میں وہ غلطی کر سکتے ہیں اور خلفاء کا آپس میں اختلاف بھی ہوسکتا ہے مگر وہ نہایت ادنی چیزیں ہوتی ہیں جیسے بعض مسائل کے متعلق حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما میں اختلاف رہا بلکہ آج تک بھی امت محمد یہ ان مسائل کے بارے میں ایک عقیدہ اختیار نہیں کر سکی مگر یہ اختلاف صرف جزئیات میں ہی ہوگا۔اصولی امور میں ان میں کبھی اختلاف نہیں ہوگا بلکہ اس کے برعکس ان میں ایسا اتحاد ہوگا کہ وہ دنیا کے ہادی و را ہنما اور اسے روشنی پہنچانے والے ہوں گے۔پس یہ کہہ دینا کہ کوئی شخص باوجود بیعت نہ کرنے کے اسی مقام پر رہ سکتا ہے جس مقام پر بیعت کرنے والا ہو۔در حقیقت یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایسا شخص سمجھتا ہی نہیں کہ بیعت اور نظام کیا چیز ہے۔مشورہ کے متعلق بھی یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ایک اکسپرٹ اور ماہر فن خواہ وہ غیر مذہب کا ہو اس سے مشورہ لے لیا جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک مقدمہ میں ایک انگریز وکیل کیا مگر اس کا