خطبات محمود (جلد 16) — Page 96
خطبات محمود ۹۶ سال ۱۹۳۵ء قتل سے مراد ظاہری طور پر قتل کر دینا تھا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جو بہت جو شیلے تھے انہیں خود کیوں نہ قتل کر دیا۔یا صحابہ میں سے کسی نے کیوں انہیں قتل نہ کیا مگر جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نہ صرف انہیں اس وقت قتل نہ کیا بلکہ اپنی خلافت کے زمانہ میں بھی قتل نہ کیا اور بعض کے نزدیک تو وہ حضرت عمر کی خلافت کے بعد بھی زندہ رہے اور کسی صحابی نے ان پر ہاتھ نہ اٹھایا۔تو بہر حال اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قتل سے مراد قطع تعلق ہی تھا ظاہری طور پر قتل کرنا نہیں تھا۔اور گو وہ صحابی عام صحابہ سے الگ رہے لیکن کسی نے ان پر ہاتھ نہ اٹھایا۔پس میں نے مثال دی تھی کہ رویا میں بھی اگر کسی کے متعلق قتل ہونا دیکھا جائے تو اس کی تعبیر قطع تعلق اور بائیکاٹ بھی ہو سکتی ہے کیونکہ رویا بھی بسا اوقات الفاظ کے ظاہری معنی پر مبنی ہوتی ہے۔مجھ سے ایک دوست نے بیان کیا ہے کہ انہی تین افراد میں سے جن کا میں نے ایک گزشتہ خطبہ میں ذکر کیا تھا ایک نے خطبہ کے بعد کہا کہ سعد نے گو بیعت نہیں کی تھی لیکن مشوروں میں انہیں ضرور شامل کیا جاتا تھا۔اس کے دو ہی معنی ہو سکتے ہیں یا تو میرے مفہوم کی تردید یا یہ کہ خلافت کی بیعت نہ کرنا کوئی اتنا بڑا جرم نہیں کیونکہ سعد نے گو بیعت نہیں کی تھی مگر مشوروں میں شامل ہو ا کرتے تھے کسی شاعر نے کہا ہے۔تا مرد سخن نگفته باشد عیب و ہنزش نهفته باشد انسان کے عیب و ہنر اس کے بات کرنے تک پوشیدہ ہوتے ہیں جب انسان بات کر دیتا ہے تو کئی دفعہ اپنے عیوب ظاہر کر دیتا ہے۔اس شخص کا بات کرنا بھی یہ معنی رکھتا ہے کہ یا تو وہ خلافت کی بیعت کی تخفیف کرنا چاہتا ہے یا اپنے علم کا اظہار کرنا چاہتا ہے لیکن یہ دونوں باتیں غلط ہیں علم کے اظہار کا کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ بات اتنی غلط ہے کہ ہر عقلمند اس کوسُن کر سوائے مسکرا دینے کے اور کچھ نہیں کر سکتا۔صحابہ کے حالات کے متعلق اسلامی تاریخ میں تین کتابیں بہت مشہور ہیں اور تمام تاریخ جو صحابہ سے متعلق ہے انہی کتابوں پر چکر کھاتی ہے۔وہ کتابیں یہ ہیں تہذیب التہذیب، اصابہ اور اسدالغابہ۔ان تینوں میں سے ہر ایک میں یہی لکھا ہے کہ سعد باقی صحابہ سے الگ ہو کر شام میں چلے گئے اور وہیں فوت ہوئے سلم ور بعض لغت کی کتابوں نے بھی قتل کے لفظ پر بحث کرتے ہوئے اس واقعہ کا ذکر کیا ہے۔بات یہ ہے کہ صحابہ میں سے ساٹھ ستر کے نام سعد ہیں۔انہی میں سے ایک سعد بن ابی