خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 91 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 91

خطبات محمود ۹۱ سال ۱۹۳۵ء کر دیا جائے تو وہ بڑھا نیچے چلا جاتا ہے اور جب کھول دیا جائے تو جھٹ باہر آ جاتا ہے پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی باتیں بھی ایسی ہی ہوتی ہیں مجھے اللہ تعالیٰ سے آنے والی چیزوں سے تعلق ہے زندگی یا موت سے نہیں۔اس سے آپ کو تعلق ہوگا کیونکہ جس سے محبت ہوتی ہے انسان کو اس کی زندگی کا فکر ہوتا ہے مگر میرے لئے یہی کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لئے کام کرنے کی توفیق ملے اور اسی میں جان چلی جائے چاہے آج چلی جائے چاہے پچاس سال بعد۔اور جو اللہ تعالیٰ کے لئے مرتا ہے اسے اللہ تعالیٰ کی غیرت بھی ضائع نہیں ہونے دیتی اور مجھے یقین ہے کہ ایسا ہی ہوگا اور پیشگوئیوں سے بھی ایسا ہی معلوم ہوتا ہے اس لئے دوست بے شک دعائیں کرتے رہیں میں بھی بعض اوقات دعا کرتا ہوں۔یہ نہیں کہ نہیں کرتا اور وہ دعا اسی رنگ میں ہوتی ہے کہ الہی اسلام کی خدمت کی جو تجاویز میرے ذہن میں ہیں اگر ان کو بروئے کارلانے کا موقع ملے تو میں بھی اسلام کی ترقی کو دیکھ لوں اور کبھی نہیں بھی کرتا اور اس وقت دل پر اس خیال کا غلبہ ہوتا ہے کہ جس طرح خدا کی مرضی ہو ، ہو جائے۔دوست بے شک دعائیں کریں مگر جو بات سب سے ضروری ہے وہ یہ ہے کہ اصل مقصد ہمیشہ مد نظر رکھیں۔میری ضرورت اسی لئے ہے کہ اسلام کی خدمت کرسکوں۔پھر وہ بھی اسلام کی خدمت کے لئے اٹھیں اور اس کے لئے اسی طرح وقت دیں جس طرح میں چاہتا ہوں ، اسلام اور احمدیت ایک ہی چیز ہیں اور اس وقت دونوں خطرہ میں ہیں اس لئے ہمیں چاہئے کہ عاجزی اور انکسار کے ساتھ خدا کے حضور گر جائیں اور اس کے ساتھ تبلیغ کے لئے پوری پوری کوشش کریں۔آپ لوگوں میں سے ہزاروں ایسے ہیں جو گالیاں دیا کرتے تھے بعض لوگ بیعت کرنے لگتے ہیں تو ان کی چھینیں نکل جاتی ہیں کہ ہم بڑی گالیاں دیا کرتے تھے اور سینکڑوں خطوط ایسے آتے ہیں کہ ہم نے بہت مخالفت کی ہے اب دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ سلسلہ کی خدمت کی توفیق دے۔پس یہ مت خیال کرو کہ لوگ نہیں سنیں گے نکلو اور تبلیغ کرو، جاؤ اور پیغام حق لوگوں کو پہنچاؤ ، اخلاص محبت اور پیار سے باتیں سناؤ تمہاری آنکھوں سے اخلاص ٹپکتا ہو، تمہاری باتوں سے محبت ظاہر ہو رہی ہو ، تمہاری کسی حرکت میں کوئی رعونت نہ ہو، تمہارے دن رات اگر اس طرح تقسیم ہو جائیں کہ اگر اندر جاؤ تو یہی خیال ہو اور باہر آؤ تو یہی مد نظر ہو اور اگر تم خدا کے سامنے جھک جاؤ تو پھر زندگی کی غرض پوری ہو سکتی ہے جس دن آپ لوگوں کے اندرا ایسا جنون پیدا ہو جائے گا جس دن مجھے ایسے نائب مل جائیں گے اس دن ہم دنیا میں