خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 774 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 774

خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء لوگ شہر چھوڑ کر بھاگ جائیں۔لیکن اگر کور بنانے کا یہ مقصد نہ ہو بلکہ حکومت کی اطاعت اس کور کے فرائض میں داخل ہو تو پھر ایسی کور کے قائم ہونے میں گورنمنٹ کا اپنا فائدہ ہے اسے اس پر اعتراض ہی کیا ہو سکتا ہے۔غرض و الینٹیئر کوروں کا بنا نا بشر طیکہ ان کے قواعد درست ہوں فوج بنانا نہیں بلکہ اس کا مقصد نوجوانوں کو کام کی عادت ڈالنا اور ان میں قربانی کی روح پیدا کرنا ہے۔ہمارے ملک کے لوگوں کا اکثر حصہ ایسا ہے کہ جب کسی کے سپرد کوئی کام کیا جائے وہ ناغہ کرنے لگ جاتا ہے اور عذر پیش کرتا رہتا ہے۔حالانکہ فوجی نظام میں کوئی عذر نہیں سنا جاتا۔وہاں ایک ہی صورت کام دے سکتی ہے کہ یا تو چھٹی لی جائے اور یا کام کر کے دکھایا جائے۔اس کے علاوہ اور کوئی بات نہیں جسے وہ اپنی بریت میں پیش کر سکے۔اس نقص کے ازالہ کے لئے میں نے سمجھا کہ جب تک کور کی صورت میں جماعت کے لوگوں کو اکٹھا نہ کیا جائے اور انہیں با قاعدہ کام کرنے کی عادت نہ ڈالی جائے گی یہ نقص رفع نہیں ہو گا۔اسی غرض کے ماتحت میں نے ” احمد یہ کور کو قائم کیا۔مگر چونکہ اس کے افسروں میں بے استقلالی کا وہ پرانا مادہ موجود تھا جو آج مسلمانوں میں پایا جاتا ہے اور جس نے انہیں زندگی کے ہر شعبہ میں ناکام بنا رکھا ہے، اس لئے تھوڑے ہی عرصہ کے بعد کور یوں غائب ہوگئی کہ گویا وہ کبھی بنائی ہی نہیں گئی تھی۔اور معلوم ہوا کہ وہ احد یہ کور نہیں تھی بلکہ ناخن کی کو تھی جسے قینچی سے کاٹ کر پھینک دیا گیا اور کبھی بھولے سے بھی یاد نہیں کیا جاتا۔اب نیشنل لیگ نے میری ہدایات کے ماتحت اس ’ احمد یہ کور کا احیاء کیا ہے۔اور میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ اس کی بڑی غرض لوگوں میں استقلال پیدا کرنا ہے۔اگر اس میں بھی بے استقلالی دکھائی گئی تو اس کا کیا فائدہ ہوسکتا ہے۔اس کے ساتھ ہی میں کور کے افسروں کو مشورہ دیتا ہوں کہ جو لوگ کور میں داخل ہوں وہ اگر حاضری کے دنوں میں سے ایک دن بھی غیر حاضر ہوں تو انہیں سزا دی جائے۔اور اگر رُخصت لینا چاہیں تو ان کا فرض ہے کہ درخواست بھیج کر رخصت لیں۔اور اگر کوئی اس طریق پر کار بند ہونے کے لئے تیار نہیں تو وہ بے شک کور سے علیحدہ ہو جائے۔اگر کوروالے اس طریق پر جو میں نے بتایا ہے کام نہیں کریں گے ، اور اگر ماں باپ اپنے بچوں کو مجبور نہیں کریں گے کہ جاؤ اور کور میں کام کر واُس وقت تک یہ کو ہمیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔پس ماں باپ اور دوسرے رشتہ داروں کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اس کور میں داخل کریں تا انہیں قربانی کرنے اور استقلال سے کام کرنے کی عادت پڑے۔ایک چھوٹی سی بات