خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 734 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 734

خطبات محمود ۷۳۴ سال ۱۹۳۵ء اہلحدیث کو اکٹھا کیا، ان کی انجمنیں بنائیں ، ایک ہفتہ وار اخبار با قاعدگی کے ساتھ ہمارے خلاف شائع کیا ، اور ہماری مخالفت کو منظم طریق پر چلایا۔پھر مولوی ظفر علی صاحب آئے۔ان کا حلقہ اثر زیادہ وسیع تھا۔اخبار لوگوں میں بہت پڑھا جاتا تھا اس لئے ان کے ذریعہ ہماری مخالفت کی آگ اور زیادہ دُور دُور تک پھیلی۔پھر احرار آئے جو ان سے بھی زیادہ منظم تھے۔گویا دشمن کی فوج جس سے اس وقت تمہارا مقابلہ ہے وہ ہر حملہ کے وقت یہ جانچتی ہے کہ اسے کتنی طاقت کی ضرورت ہے۔اور جب وہ محسوس کرتی ہے کہ پہلا حملہ اس کا اتنا شدید نہ تھا جس سے احمدیت کو نقصان پہنچے۔اور اس کے کچلنے کے لئے اسے اور زیادہ طاقت کی ضرورت ہے تو وہ اور زیادہ منظم ہو جاتی اور مخالفت کے سامان مہیا کرتی ہے۔اور جب دیکھتی ہے کہ وہ سامان بھی کافی نہیں تو پھر اور زیادہ مخالفت کے سامان جمع کرنے لگتی ہے۔پس تم مت خوش ہو اس بات پر کہ احرار کچلے ہوئے نظر آتے ہیں۔اگر تم نے مخالفت کی اصل روح کو نہ کچلا تو اب جو تمہاری مخالفت کے لئے اُٹھیں گے ، وہ احرار بھی زیادہ طاقت اپنے اندر رکھتے ہوں گے تم کو غور کرنا چاہئے کہ کیا تم بھی ہر حملہ کے بعد پہلے سے زیادہ قربانیاں کرتے چلے جا رہے ہو ؟ اور کیا تمہارا قدم بھی ایثار اور اخلاص میں پہلے سے زیادہ بڑھا ہوا ہے یا ایک جگہ ٹھہرا ہوا ہے؟ تم مت دیکھو اس بات کو کہ تمہارا بجٹ پہلے ایک لاکھ کا ہوا کرتا تھا اور اب دو تین یا چار لاکھ کا ہے۔اس لئے کہ اگر بجٹ زیادہ ہے تو تمہاری تعداد بھی تو بڑھ گئی ہے دیکھنا یہ چاہئے کہ تم میں سے ہر فرد کتنی قربانی کرتا ہے۔اگر وہ قربانی پہلے سے زیادہ نہیں تو کچھ بھی نہیں۔اگر ایک شخص جس کے پاس اس سال ایک سو روپیہ ہے وہ اس میں سے ایک روپیہ خدا تعالیٰ کی راہ میں دیتا ہے اور اگلے سال دو سو ملنے پر صرف ڈیڑھ روپیہ دیتا ہے تو کیا کہا جاسکتا ہے کہ اس نے قربانی میں ترقی کی ؟ ترقی تب ہوتی جب وہ دوسو ملنے پر تین یا چار روپے خدا تعالیٰ کی راہ میں دیتا پس اگر تمہیں اپنی قربانیاں زیادہ نظر آتی ہیں تو تمہیں دیکھنا چاہئے کہ تمہاری جماعت بھی پہلے سے زیادہ ہوگئی ہے اور جماعت کی زیادتی کو مد نظر رکھتے ہوئے نہیں کہا جا سکتا کہ جماعت نے قربانیوں میں ترقی کی بلکہ یہی کہا جائے گا کہ جماعت اپنی جگہ پر کھڑی ہے۔اور میں دیکھتا ہوں کہ بہت لوگ ایسے ہیں جو اپنی قربانی کے پہلے مقام پر کھڑے ہیں اور وہ اپنی جگہ سے ہلنا بہت معیوب سمجھتے ہیں لیکن یاد رکھو اللہ تعالیٰ تمہیں اس مقام پر کھڑا نہیں رکھے گا۔اُس نے تمہیں چنا ہے اس لئے کہ تمہیں صحابہ کا مثیل بنائے ، اس نے تمہیں چنا ہے اس لئے