خطبات محمود (جلد 16) — Page 728
خطبات محمود ۷۲۸ سال ۱۹۳۵ء کے لئے ہے جو مسلمانوں کے خلاف شرارتیں کرتے اور مظاہرے کرتے ہیں ان کے علاوہ اگر ان میں سے کوئی تمہاری پناہ میں آنا چاہے تو اسے پناہ دو اور اسے اس بات کا موقع دو کہ وہ خدا کا کلام سنے۔اگر وہ مان جائے گا تو تمہارے ساتھ ہو جائے گا اور اگر وہ نہ مانے تو بھی اسے امن کے ساتھ اس کے گھر تک پہنچا دو۔اور آنے کے لئے رستہ بالکل بند نہ کرو کیونکہ یہ لوگ ایسے ہیں جو حقیقت کو نہیں سمجھتے یہ آیتیں ہیں جن سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ جو مقام کسی جماعت کا مذہبی مرکز ہوا سے دوسرے اثرات سے محفوظ رکھنا چاہئے اور غیروں کو اس میں جمع ہونے سے روکنا چاہئے۔اسی بناء پر حرم کی حدود میں کسی غیر مسلم کو جانے کی اجازت نہیں۔لیکن ساتھ ہی فرمایا کہ اگر کوئی شخص نرمی اور محبت سے آنا چاہے تو اسے نہ رو کو بلکہ آنے دو اور جب باتیں سن چکے تو اسے آرام سے اپنے گھر پہنچا دو۔پس جو مقدس مقامات ہوں اُن کی عزت و حرمت کے لئے ہر قوم کو یہ حق حاصل ہے اور ہر قوم کا یہ حق ہے کہ وہ اپنے مذہبی مقدس مقامات میں اپنے مذہب کے علاوہ دوسرے لوگوں کے مظاہرات نہ ہونے دے۔کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ تم اس طرح تبلیغ کا رستہ بند کر تے ہو۔اس لئے کہ قادیان کا ہر احمدی وقتاً فوقتاً باہر جاتا ہے قادیان میں ساری عمر بند نہیں رہتا پھر صرف قادیان میں ہی احمدی نہیں بلکہ ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اگر کوئی تبلیغ کرنا چاہے تو قادیان کے احمدیوں کو بھی جب وہ باہر جائیں تبلیغ کر سکتا اور بیرونی جماعتوں کو بھی تبلیغ کر سکتا ہے۔جس طرح عیسائی مسلمانوں سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ تم نے پہلا وحرم میں ہماری تبلیغ بند کر دی ہے، جس طرح ہند و مسلمانوں سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ تم نے عرب میں ہماری تبلیغ بند کرا دی ہے اس لئے عرب ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اور جب وہ اپنے ملک سے باہر نکلیں ، عیسائی اور ہندو انہیں تبلیغ کر سکتے ہیں۔اسی طرح ہمارے متعلق بھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ہم نے تبلیغ کا راستہ بند کر دیا بلکہ ہمارا حق ہے کہ قرآن کریم کے تسلیم کردہ اصل کے ماتحت چونکہ قادیان بھی ہمارا مقدس مقام اور جماعت کے نظام کا مرکز ہے اس لئے ہم اس جگہ کسی قسم کا کوئی ایسا فعل نہ ہونے دیں جس میں سلسلہ کی ہتک یا بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ہتک ہو۔پھر یہ حق ہم صرف اپنے لئے نہیں مانگتے بلکہ ہم چاہتے ہیں جس قوم اور جس مذہب کا بھی کوئی شہر مقدس مرکز ہو یا وہ اسے اپنے لئے مقدس مرکز قرار دے لے وہ اسی طرح غیروں کی شورش سے