خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 711 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 711

خطبات محمود 211 سال ۱۹۳۵ء معدہ اُس کورڈ کرتا چلا جاتا تھا اور میں بامر مجبوری کھاتا جاتا تھا پس بعض دفعہ اس خیال سے کہ ممکن ہے مہمان کو کوئی چیز پسند نہ ہو یا اُسے کوئی بیماری ہوا اور اس وجہ سے وہ کوئی خاص چیز استعمال نہ کرسکتا ہو اگر دوسرا کھانا پکا لیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔مثلا مہمان کو بواسیر ہو اور تم نے بینگن پکائے تو ان کے کھانے سے اُسے تکلیف ہو گی اسی طرح مہمان کے متعلق بھی یہ ہدایت ہے کہ اگر وہ سمجھتا ہے کہ میزبان کی دل شکنی نہ ہوگی تو وہ ایک ہی کھانا کھائے۔اس سال مجھے بھی بعض ایسی دعوتوں میں شامل ہونا پڑا جن میں ایک سے زیادہ کھانے پکائے گئے تھے مگر میں نے ایک ہی کھایا۔پس مہمان کو عام صورتوں میں ایک ہی کھانے پر کفایت کرنی چاہئے لیکن اگر میز بان کی دل شکنی کا ڈر ہو یا غلط فہمی پیدا ہونے کا خوف ہو یا ادب اور احترام چاہتے ہوں کہ میزبان کی پیش کردہ شے کو استعمال کیا جائے تو پھر ایک سے زیادہ کھانے کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔مثلاً کسی غیر احمدی کے ہاں احمدی کی دعوت ہو۔وہ اس نکتہ کوسمجھ ہی نہیں سکتا جو میں نے پیش کیا ہے پس اس کی دل شکنی سے بچنے کے لئے دوسری چیز بھی کھالی جائے تو کوئی حرج نہیں۔اسی سال ایک غیر احمدی نے میری دعوت کی۔میں نے ایک کھانے پر کفایت کی۔کھانے کے دوران میں وہ ایک چیز لائے اور کہا کہ یہ تو میں نے خاص طور پر آپ کے لئے تیار کروائی ہے یہ ضرور کھائیں۔میں نے اُس میں سے ایک لقمہ لے لیا تا ان کی دل شکنی نہ ہو کہ وہ بھی گناہ ہے پس چونکہ دوسرا کھانا شرعاً حرام نہیں ہے اس لئے ایسے موقع پر دوسری چیز کو بے حد ضرورت استعمال کیا جا سکتا ہے گو پوری کوشش یہ ہونی چاہئے کہ ایک ہی کھانا استعمال کیا جائے۔پھر ادب اور احترام کا سوال بھی ہوتا ہے۔ایک دفعہ رسول کریم ﷺ ایک مجلس میں تشریف رکھتے تھے کہ کوئی شخص دودھ لایا۔آپ نے پیا اور جو باقی بچا اُسے کسی کو دینا چاہا۔آپ کے دائیں طرف ایک لڑکا تھا اور بائیں طرف حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے آپ نے چاہا کہ دودھ ان کو دیں ممکن ہے حضرت ابو بکر دیر سے بیٹھے ہوں اور آپ نے اس خیال سے کہ بوڑھے آدمی ہیں ان کو دینا چاہا ہو یا اور کسی وجہ سے آپ ان کو دودھ دینا چاہتے ہوں بہر حال آپ نے دودھ انہیں دینا چاہا مگر چونکہ آپ کا قاعدہ یہ تھا کہ دائیں طرف کو ترجیح دیتے تھے آپ نے اُس لڑکے سے پوچھا کہ میرے پینے سے کچھ دودھ بچا ہے اور میری عادت یہی ہے کہ دائیں طرف والے کو دیتا ہوں اس لئے یہ تمہارا حق ہے لیکن اگر تمہاری اجازت ہو تو میں ابو بکر کو دے دوں اُس لڑکے نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ یہ آپ