خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 696 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 696

خطبات محمود ۶۹۶ سال ۱۹۳۵ء پیشتر اس کے کہ میں آج کے خطبہ کا مضمون شروع کروں ، میں چند مختصر ہدایات اس امر کے متعلق دنیا چاہتا ہوں کہ احرار کی طرف سے مباہلہ کا بہانہ بنا کر قادیان میں کا نفرنس منعقد کرنے کی جو تجویزیں ہو رہی ہیں بلکہ جو اطلاعات ہمیں پہنچی ہیں، ان کے مطابق یہاں فساد پھیلانے کی جو تجویز میں ہو رہی ہیں ان کے بارہ میں جماعت کو بعض احتیاطوں کی ضرورت ہے۔میں نے بتایا ہے کہ وہ مباہلہ کا بہانہ بنا کر یہاں کا نفرنس کرنا چاہتے ہیں اور یہ بات ایسی روشن اور بین ہے کہ سوائے ایسے شخص کے جو عمداً آنکھوں کو بند کر لے اس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ہمیں متفرق مقامات سے ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں بلکہ ایک احمدی کا بیان بھی اخبار میں شائع ہوا ہے جس نے مولوی عطا اللہ صاحب اور دوسرے احراری لیڈروں کے ساتھ ریل میں سفر کیا اُن کو اس کے احمدی ہونے کا علم نہ تھا۔اُس نے سوال کیا کہ کیا مباہلہ کی شرائط طے ہو گئی ہیں؟ تو اسے جواب دیا گیا کہ بے شرائط ہی مباہلہ ہو گا۔پھر اس نے پوچھا کیا وقت مقرر ہو گیا ہے؟ تو مولوی صاحب نے کہا کہ بے وقت ہی ہوگا اور سارا دن ہوگا۔اسی طرح ہوشیار پور میں ایک عرس ہوتا ہے جس پر بڑا اجتماع ہوتا ہے۔اس موقع پر بھی ان کے بعض لیڈر وہاں گئے تھے انہوں نے وہاں جو تقریریں کیں ان میں بھی یہی بات کہی گئی کہ بے شرائط مباہلہ ہوگا۔بلکہ کسی کے دریافت کرنے پر کہ کیا شرائط طے ہو گئی ہیں ؟ اُسے جواب دیا گیا کہ شرائط کی ضرورت ہی کیا ہے آخر ہم نے وہاں جلسہ بھی کرنا تھا یا نہیں۔تو ان لوگوں کے یہاں آنے کی غرض کانفرنس کرنا اور فساد پھیلانا ہی ہے ورنہ اگر انہیں اللہ تعالیٰ پر اتنا یقین ہوتا کہ سمجھتے ہم بچے ہیں اور مباہلہ کر سکتے ہیں تو جس طرح میں نے قسم کھا کر مباہلہ کر ہی دیا ہے یہ لوگ بھی اسی طرح کیوں نہ کر دیتے۔وہ اخباروں میں اعلان کر رہے ہیں کہ احمدی مباہلہ سے ڈر گئے حالانکہ میں نے پہلے ہی قسم کھا لی تھی اور کیا ڈرنے والا پہلے ہی قسم کھا لیا کرتا ہے؟ جو الزام وہ لگاتے تھے ان کو مد نظر رکھتے ہوئے اور ان کے مطابق الفاظ میں میں نے قسم شائع کر دی ہے تا کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ مباہلہ سے ڈر گئے ہیں۔اسی طرح اگر وہ یقین رکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے آپ کو نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذلک رسول کریم ﷺ سے افضل سمجھتے تھے بلکہ آپ پر ایمان نہ رکھتے تھے اور مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی عظمت آپ کے دل میں نہ تھی اور آپ چاہتے تھے کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی نَعُوذُ بِاللهِ مِنُ ذلک اینٹ سے اینٹ بج جائے اور یہ کہ جماعت احمدیہ کا بھی یہی عقیدہ ہے تو کیوں احرار کے