خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 693 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 693

خطبات محمود ۶۹۳ سال ۱۹۳۵ء ساتھ ملا کر جو اِس وقت دے رہا ہوں تمام افراد کو آگاہ کیا جائے۔پس تمام جماعتوں کو چاہئے کہ وہ یکم دسمبر کو اپنی اپنی جماعتوں میں جلسے کریں اور سادہ زندگی ،خوراک ،لباس اور دوسرے امور کے متعلق جماعت سے عہد لیں گو جماعت ایک دفعہ پہلے بھی یہ عہد کر چکی ہے کہ وہ اس سکیم کو کا میاب بنائے گی۔مگر ضروری ہے کہ اُس دن پھر اس عہد کی تجدید کرائی جائے اور ان سے اقرار لیا جائے کہ وہ اپنے وعدوں پر قائم رہیں گے اور سلسلہ کی خدمت ہمیشہ کرتے رہیں گے۔اسی طرح میں جو چندہ کی تحریک کروں اس کے متعلق بھی یکم دسمبر تک جن دوستوں کے نام نہ پہنچیں اُن سے وعدے لئے جائیں۔میں نے پہلے بھی کہا تھا اور اب پھر کہتا ہوں کہ جو لوگ اس خیال میں رہیں گے کہ احمدیت ایک معمولی چیز ہے اور وہ سلسلہ کے لئے مالی اور جانی قربانیاں نہیں کریں گے خدا انہیں ہلائے گا اور اس زور سے ہلائے گا کہ ان کی زیست کی کوئی صورت باقی نہیں رہے گی۔پس ہوشیار ہو جاؤ اور بیدار ہو جاؤ اور سمجھ جاؤ کہ احمدیت میں داخل ہونا ایک فوج میں داخل ہونے کے مترادف ہے جس میں داخل ہوتے ہی یہ عہد لیا جاتا ہے کہ اسے خدا تعالیٰ کے راستہ میں سر کٹانا پڑے گا۔جو شخص اس حقیقت کو نہیں سمجھتا وہ اندھا ہے۔وہ اپنی قبر آپ کھودتا ہے اور اس قابل ہے کہ دنیا سے مٹا دیا جائے یا د رکھو عام لوگ جب قتل بھی کر دیتے ہیں تو فیصلہ کرتے وقت حج اس امر کو دیکھا کرتے ہیں کہ اس نے قتل کن حالات میں کیا ؟ آیا اسے اشتعال دلایا گیا تھا یا نہیں ؟ اور کیا یہ مجنون تو نہیں ؟ پھر اگر انہیں کوئی وجہ نظر آئے تو قاتل کو معاف کر دیتے یا اس کی سزا میں کمی کر دیتے ہیں لیکن فوج میں معمولی سے معمولی مجرم کی سزا بھی قتل ہوتی ہے۔سپاہی جب میدانِ جنگ سے شکست کھا کر واپس بھاگتے ہیں تو کئی حکومتیں توپ خانوں کا منہ ان کی طرف کر دیتیں اور انہیں گولیوں سے ہلاک کر دیتی ہیں۔سینکڑوں سپاہیوں نے مجھ سے بیان کیا کہ کئی موقعوں پر اُن کے ملکی توپ خانوں نے اُن پر گولہ باری کی۔حکومتیں عام طور پر ان باتوں کو تسلیم نہیں کیا کرتیں لیکن عملی رنگ میں ایسا ہی کیا جاتا ہے اور ان غداروں کو جو میدانِ جنگ سے پیٹھ موڑتے ہیں گولی سے ہلاک کر دیا جاتا ہے۔تم بھی اس وقت ایک روحانی جنگ میں شامل ہو۔تم میں سے بھی جو شخص اس میدان سے اپنی پیٹھ موڑے گا ، وہ اس سلوک کا مستحق نہیں ہو گا جو عام لوگوں سے کیا جاتا ہے بلکہ فوجی نظام کی مانند ایک ہی چیز اس کا علاج ہو گی کہ خدا کی گولی لگے اور اسے فنا کر دے۔پس عہد مصتم کر لو کہ تم خدا تعالیٰ کے سپاہیوں میں