خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 692 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 692

خطبات محمود ۶۹۲ سال ۱۹۳۵ء قائم کر دیں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ زندہ ہیں۔تا وہ یہ کہ سکیں کہ گو ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نہیں دیکھا مگر ان کے دیکھنے والوں کو تو دیکھ لیا۔ایک سو جا کھے کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ آنکھیں کتنی قیمتی چیز ہیں۔تم ایک اندھے سے پوچھو کہ آنکھوں کی کیا قدر ہوتی ہے۔اسی طرح تم اس امر کو نہیں سمجھ سکتے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت کتنی قیمتی چیز ہے۔نہ تم ان لوگوں کے درد کی کیفیت کا اندازہ لگا سکتے ہو جو بعد میں آئیں گے جنہوں نے یہ زمانہ نہیں دیکھا ہو گا۔اور وہ کہیں گے کاش! ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھا ہوتا۔کاش! ہم نے آپ کے دیکھنے والوں کو ہی دیکھا ہوتا۔اس وقت لاکھوں نہیں کروڑوں روحیں ہیں جو پیاسی تڑپ رہی ہیں وہ آسمان کی طرف حسرت اور لجاجت سے اپنی آنکھیں اُٹھائے ہوئے کہہ رہی ہیں کہ اے خدا ! ہم نے سنا ہے تیری طرف سے ایک آواز بلند ہوئی مگر وہ آواز پہنچانے والا کوئی نہیں ملا اے خدا! ہم نے سنا ہے کہ تیری طرف سے محبت کا ایک ہاتھ بڑھایا گیا۔مگر اُس نے ہمارے جسموں کو ابھی تک نہیں چھوا۔پس رحم کرو اُن لاکھوں اور کروڑوں تڑپتی ہوئی روحوں پر جو دنیا کے کناروں میں آباد ہیں۔اور رحم کر واُن روحوں پر جو صداقت کیلئے بے قرار ہو ہو کر آسمان کی طرف اپنا منہ بلند کر رہی ہیں۔تم اُٹھو اور انہیں آستانہ الوہیت پر جھکاؤ۔پس تیار ہو جاؤ اس بات کے لئے کہ تمہاری قربانیاں گزشتہ سال سے کم نہ ہوں بلکہ زیادہ ہوں۔میں نے تحریک جدید کے ماتحت جو سکیم بیان کی ہوئی ہے اس پر عمل کرو۔مجھے یقین ہے کہ اگر اس سکیم پر صحیح طور پر عمل کیا جائے تو دنیا کی کایا پلٹ سکتی ہے پس اس سکیم کو یاد کر واس کے مضامین کو اپنے ذہنوں میں جماؤ اور لوگوں کو اس سے واقف و آگاہ کرو۔بہت سے ان پڑھ ہوتے ہیں جنہیں اس سکیم کے مضامین سے آگاہ کرنا ضروری ہوتا ہے پھر بہت سے غافل ہوتے ہیں انہیں جگانا اور ہوشیار کرنا بھی ضروری ہوتا ہے پس تم وہ سکیم ذہن نشین کرو اور اپنے محلہ والوں کے ذہن نشین کر ا ؤ ، اپنے دوستوں کے ذہن نشین کرو، ان پڑھوں کے ذہن نشین کرو، اور ذہن نشین کر ویستوں کے ، اس کے لئے میں یکم دسمبر کی تاریخ مقرر کرتا ہوں اُس دن اتوار ہے اور سرکاری ملازمین کو بھی چھٹی ہو گی۔پس یکم دسمبر کو ہر جگہ کی جماعتیں تحریک جدید کے متعلق جلسے منعقد کریں اور اس میں میرے ان پرانے خطبات کے مطالب سے جو میں تحریک جدید کے متعلق دے چکا ہوں ان نئے خطبات کے مطالب کے