خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 667 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 667

خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء لے لے تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ ہماری جماعت ہزاروں روپیہ خرچ کر کے آئے۔اگر ہماری جماعت کے احباب قریب قریب سے پہنچیں تب بھی ہزاروں روپے خرچ آ سکتا ہے اور اگر دور دور سے لوگ آئیں تو لاکھوں روپیہ تک نوبت پہنچ سکتی ہے۔پھر ان کی مہمان نوازی اور خاطر و تواضع پر بھی بہت کچھ خرچ ہو جاتا ہے۔پس اگر گورنمنٹ کی طرف سے اس فتنہ کے انسداد کا کوئی انتظام ہو جائے تو بہتر۔لیکن اگر اس کی طرف سے کوئی انتظام نہ ہو تو پھر میں بھی نیشنل لیگ کے اس اعلان کی تصدیق کرتا ہوں کہ اس موقع پر تمام احمدیوں کو چاہئے کہ وہ اپنے کام کا حرج کر کے بھی قادیان پہنچ جائیں۔لیکن گورنمنٹ اگر کانفرنس کے روکنے کا اعلان کر دے اور اپنے فیصلہ کو پورا کرنے کی ذمہ داری لے تو اس صورت میں ہماری جماعت کے افراد کا یہاں آنا فضول ہو گا۔ہمیں اس صورت میں گورنمنٹ پر اعتماد کرنا چاہئے اور امید رکھنی چاہئے کہ وہ ایک ذمہ واری لینے کے بعد ہمیں مزید الجھنوں میں مبتلاء نہیں کرے گی۔اب میں اصل خطبہ کی طرف متوجہ ہوتا ہوں۔میں نے پچھلے جمعہ میں اس بات کا ذکر کیا تھا کہ گو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے احرار کی سرزنش کا سامان کر دیا اور انہیں بہت کچھ پریشانی میں ڈال دیا ہے لیکن ان کا فتنہ ابھی مرا نہیں ایسے فتنے دوبارہ بھی اُٹھ سکتے ہیں۔اسی طرح حکومت کو بھی ایک سبق مل گیا ہے اور اس نے بھی ان ایام میں دیکھ لیا ہے کہ احرار کی پیٹھ ٹھونک کر اُس نے کیا حاصل کیا۔چنانچہ ان ایام میں احرار نے گورنمنٹ کو خوب گالیاں دی ہیں اور جتنا زیادہ اس نے احرار کو اپنے سر چڑھایا تھا ، اُسی قدر جلدی انہوں نے احسان فراموشی کی ہے۔ادھر احرار کی خاطر گورنمنٹ احمدیوں سے لڑی اُدھر شہید گنج کے معاملہ میں جب احرار کے خلاف ایک اخبار میں چند مسلمانوں نے بیان شائع کرایا تو اس کے پریس کو تنبیہ کی گئی۔اسی طرح کی ایک تنبیہہ ایک اور پریس کو بھی مجلس احرار کے خلاف پوسٹر شائع کرنے کی وجہ سے کی گئی اور خود گورنمنٹ نے ان تمام باتوں کو تسلیم کیا ہے۔اس کے مقابل پر احرار نے کیا کیا ؟ انہوں نے جب دیکھا کہ ان کی عزت جاتی رہی اور ان کا وقار ضائع ہو گیا ہے تو انہوں نے اپنے صدر کو کھڑا کر دیا اور اُس کے منہ سے گورنمنٹ کو خوب گالیاں دلوا ئیں۔میں سمجھتا ہوں کہ اس موقع پر گورنمنٹ نے احرار سے زیادہ شرافت دکھائی۔اس نے سمجھا کہ گواحرار نے بے وفائی کی ہے مگر مجھے اتنی جلدی حق دوستی ضائع نہیں کرنا چاہئے چنانچہ باوجود اس