خطبات محمود (جلد 16) — Page 661
خطبات محمود ۶۶۱ سال ۱۹۳۵ء لئے مجھے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ تم نے ہمیں کس مصیبت میں پھنسا دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی لکھا ہے کہ میرا رستہ پھولوں کی سیج کا نہیں بلکہ پر خار ہے جو ڈرتا ہے وہ آگے نہ آئے۔کے پس قربانیوں کے مطالبات اب زیادہ ہو نگے کم نہیں۔جو خیال کرتا ہے کہ اب سال ختم ہو گیا یہ بھی ختم ہو جانی چاہئیں، اُس کے اندر ایمان نہیں۔میرے ساتھ اب وہی چلیں گے جو یہ مستقل ارادہ رکھتے ہوں گے کہ ہم نے اب سانس نہیں لینا اب ہم خدا کے قدموں میں ہی مریں گے اور جان دے دیں گے۔جب تک عشق کی وہ گولی نہ کھائی جائے جو اللہ تعالیٰ کے دربار میں پہنچا دے اُس وقت تک کوئی زندگی نہیں۔جو میرے ساتھ نہیں آتا اُس پر کوئی افسوس نہیں۔اگر تم سب کے سب بھی مجھے چھوڑ دو تب بھی خدا غیب سے سامان پیدا کر دیگا لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ جو بات خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کہی اور جس کا نقشہ اُس نے مجھے سمجھا دیا ہے وہ نہ ہو۔وہ ضرور ہوکر رہے گا خواہ دوست دشمن سب مجھے چھوڑ جائیں خدا خود آسمان سے اُترے گا اور اس مکان کی تعمیر کر کے چھوڑے گا۔( الفضل ۷ رنومبر ۱۹۳۵ء) التوبة ۳۸ تا ۴۲ تاریخ طبری الجزء الثالث صفحہ ۲۴۷ تا ۲۴۹ مطبوعہ بیروت ۱۹۸۷ء انوار الاسلام روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۲۳، ۲۴ (مفہوما )