خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 658 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 658

خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء اور جو یہاں اُتارنا چاہتا ہے ، اُسے اس میدان میں قدم رکھنے کی ضرورت نہیں۔اس ضمن میں ایک اور بات بھی قابل ذکر ہے۔اس طوفان کے زمانہ میں حکومت کے بعض افسروں کی جہالت کی وجہ سے حکومت بھی ہماری مخالفت پر کمر بستہ ہو گئی تھی اور بعض افسروں کو جس طرح بھجلی ہوتی ہے کوئی خیال پیدا ہوا اور وہ خواہ مخواہ ایک وفادار جماعت کے خلاف شرارتیں کرنے لگے۔اب حکومت کے رویہ میں میں اگر چہ ایک نیک تغیر دیکھتا ہوں مگر یہ تغیر ابھی تک حقیقت کو نہیں پہنچا نہ حکومت محسوس کرتی ہے کہ ماتحتوں نے غلطیاں کی ہیں مگر وہ کوئی گرفت نہیں کرنا چاہتی۔حالانکہ دیانت داری کا تقاضا ہے کہ ایسے افسروں کو سزا دی جائے جن سے قصور ہو ا ہو حکومت کی عزت اسی میں ہے۔بہر حال حکومت نے غلطی کی اور میں کہوں گا اب تک غلطی کر رہی ہے کیونکہ جن افسروں نے سلسلہ احمدیہ کے وقار کو مٹانے کے لئے کارروائیاں کیں اُن کے خلاف وہ کوئی کارروائی نہیں کر رہی۔احرار نے سمجھا تھا کہ یہ بھی شاید کوئی روپیہ بٹورنے والی جماعت ہے اور ہماری طرح اس کے بھی بعض لیڈر ہوں گے۔اور حکومت نے بھی خیال کیا کہ یہ ایک چھوٹی سی جماعت ہے اس کے حقوق کی نگہداشت کی کیا ضرورت ہے۔مگر ہم نے احرار کو بھی کچھ نہیں کہا خدا نے ہی ان کو سزا دی ہے اور اگر حکومت اپنے ان افسروں کو سزا نہیں دے گی تو خدا تعالیٰ ان افسروں کو سزا دے گا۔بے شک برطانوی حکومت کا ہاتھ بہت وسیع ہے مگر ہمارے خدا کا ہاتھ اس سے بہت زیادہ وسیع ہے۔حکومت یہ مت خیال کرے کہ ان معاملات کو دبایا اور ہمیں ڈرایا جا سکتا ہے یا لالچ دی جاسکتی ہے۔ہتک ہماری نہیں بلکہ خدا کے سلسلہ کی کی گئی ہے اور جو کام ہم نہیں کر سکتے اسے ہمارا خدا کر سکتا ہے۔اس لئے ہم نہ قتل سے ڈرتے ہیں نہ پھانسی سے اور نہ دیگر سزاؤں سے۔حکومت یہ خیال بھی نہ کرے کہ لمبے عرصہ کے بعد ہم ان باتوں کو بُھول جائیں گے۔ہمارے دلوں میں بغض نہیں مگر ہمارا خدا اپنے دین اور اپنی جماعت کی ہتک کو تو بہ کے بغیر معاف نہیں کیا کرتا۔ہم حکومت کا مقابلہ نہیں کر سکتے اور یہ چیز ہمارے مذہب کی تعلیم کے خلاف ہے لیکن خدا کی غیرت بھی وہیں جوش میں آیا کرتی ہے جب وہ بندے کے ہاتھ باندھ دیتا ہے۔جہاں وہ خود مقابلہ کی اجازت دیتا ہے وہاں خود چُپ رہتا ہے لیکن جب ہاتھ روکتا ہے تو پھر خود اس کا انتقام لیتا ہے۔رسول کریم ایک دفعہ کسی مجلس میں بیٹھے تھے۔حضرت ابو بکر بھی تھے کہ ایک شخص آیا