خطبات محمود (جلد 16) — Page 57
خطبات محمود ۵۷ سال ۱۹۳۵ء لڑائی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ وہ مل نہیں سکتے لیکن میں یہ نہیں چاہتا کہ کوئی ایسی بات ہو کہ حکومت کے ساتھ ہمارے تعلقات منقطع ہو جائیں ہماری طرف سے یہ احتیاط ہمیشہ رہے گی ، ہاں اس کی طرف سے اگر انقطاع ہو تو اس کی مرضی۔اسی طرح مسلمانوں کے ساتھ بھی میں قطع تعلق کو پسند نہیں کرتا۔سیاسی طور پر ہم ان کو اپنا شریک سمجھنے کی کوشش کرتے رہیں گے۔میں افراد کی شرارتوں کو ساری مسلمان قوم سے منسوب نہیں کر سکتا ان میں بہت اچھے آدمی ہیں۔چند ہی ہفتے ہوئے ایک آنریری مجسٹریٹ کی چٹھی مجھے ملی ہے انہوں نے لکھا ہے کہ میں نے اخبار ” زمیندار کے بعض مضامین پڑھے تو مجھے خیال آیا کہ آپ کے سلسلہ کی کتب بھی پڑھنی چاہئیں چنانچہ میں نے پڑھیں تو مجھ پر یہ اثر ہوا کہ آج اگر اسلام کی خدمت کرنے والی کوئی جماعت ہے ، تو وہ آپ کی جماعت ہی ہے اس لئے میں نے اپنے منشی کو ہدایت کر دی ہے کہ وہ پانچ روپیہ ماہوار چندہ آپ کو بھیج دیا کرے۔تو دیکھو پڑھا اخبار ”زمیندار“ مگر نتیجہ یہ ہوا کہ ہماری مالی مدد شروع کر دی حالانکہ وہ ہماری جماعت میں شامل نہیں ہیں۔پس لاکھوں مسلمان ہیں جو اس شرارت کو نا پسند کرتے ہیں اور ہم یہ بے ایمانی کس طرح کر سکتے ہیں کہ شریف لوگوں کو بھی ان شریروں کی وجہ سے جو اپنی ذات میں گندے ہیں بُرا کہنے لگ جائیں اس لئے ہماری کوشش رہے گی کہ مسلمانوں کے ساتھ رہیں اور ان کی جو خدمت ہم سے ہو سکے کریں لیکن اگر مسلمان خود ایسے لوگوں کے اثر کے نیچے آجائیں تو یہ ان کی مرضی ہے۔ناک رگڑ کر ہم نہ حکومت سے صلح کے لئے تیار ہیں اور نہ مسلمانوں سے۔ہاں ہمیں عزت کے مقام پر رکھ کر جو بھی ہمارے ساتھ ملے گا ، اس کی مصیبت کے وقت ہم سب سے آگے ہو کر لڑیں گے مگر جس سے بھی دوستی رکھیں گے اپنی عزت قائم رکھتے ہوئے رکھیں گے۔مومن ذلیل نہیں ہوتا اگر حکومت ہم سے دوستی نہ رکھنا چاہے گی تو پھر بھی ہم قانون کی پوری پوری پابندی کریں گے اور آرام سے گھر میں بیٹھے رہیں گے ہمیں اس سے ملنے کی کیا ضرورت ہے۔لیکن حکومت کے متعلق میرا گزشتہ تجربہ یہی بتاتا ہے کہ ایسے جھگڑے عارضی ہو ا کرتے ہیں اور آخر کار وہ ٹھیک ہو ہی جایا کرتے ہیں۔پہلے بھی کئی بار ایسا ہو چکا ہے۔حکومت کے ایک سیکرٹری ہیں، ایک دفعہ ان سے سخت لڑائی ہوئی مگر وہ پہلے بھی ہمارے دوست تھے اور آج بھی گہرے دوست ہیں اور اس شورش میں ہمارے ساتھ پوری ہمدردی رکھتے ہیں۔پس میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھی عارضی چیز ہے اور اس