خطبات محمود (جلد 16) — Page 574
خطبات محمود ۵۷۴ سال ۱۹۳۵ء ہو مگر چونکہ میں ابھی سفر سے آرہا ہوں اس لئے مجھے ابھی تک رپورٹ نہیں ملی کہ احرار کی طرف سے مباہلہ پر آمادگی کی کوئی تحریک ہوئی ہے یا نہیں۔بہر حال جب کوئی کسی دوسرے کو چیلنج دے گا تو وہ اپنی طرف سے بعض شرائط بھی مقرر کرے گا لیکن میں وضاحنا بتا دینا چاہتا ہوں کہ میں ہرگز اس یکطرفہ فیصلہ کا قائل نہیں جس قسم کا فیصلہ کہ بعض غیر احمدی کیا کرتے ہیں یعنی وہ بعض شرائط جو خلاف عقل ہوتی ہیں اپنی طرف سے مقرر کر دیتے ہیں اور پھر اصرار کرتے ہیں کہ انہیں قبول کیا جائے اور اگر قبول نہ کیا جائے تو وہ اسے فرار پر محمول کرتے ہیں یہ لغو طریق ہے اور میں نے ہمیشہ اس طریق کی لغویت کا اظہار کیا ہے۔پس میں ہرگز اس بات کا مدعی نہیں کہ جو شرطیں مباہلہ کے متعلق میری طرف سے پیش کی گئی ہیں ان میں رد و بدل نہیں ہو سکتا۔میرے نزدیک دوسرے فریق کو کامل حق ہے کہ وہ اعتراض کر کے مثلاً ثابت کر دے کہ فلاں شرط شریعت کے خلاف ہے یا فلاں شرط ناممکن العمل ہے یا فلاں شرط جو پیش کی گئی ہے اس سے بہتر فلاں شرط ہو سکتی ہے۔یہ تینوں حق احرار کو حاصل ہیں اور اگر وہ کسی وقت بھی ثابت کر دیں کہ میری پیش کردہ شرائط شریعت کے خلاف ہیں یا عملی لحاظ سے ناممکن ہیں یا ان سے بہتر شرائط فلاں فلاں ہیں تو میں ہر وقت ان شرائط میں تغیر و تبدل کرنے کے لئے تیار ہوں۔باقی انہوں نے اپنے اخبار میں بھی شائع کیا ہے اور یہاں بھی تقریر کرتے ہوئے کہا کہ میں اس مباہلہ میں اپنی جماعت کے صرف دوسرے افراد کو پیش کرتا ہوں خود مباہلہ کرنے پر آمادہ نہیں۔یہ ایسی غلط بات ہے کہ میں نہیں سمجھ سکتا اس سے بڑھ کر غلط بات اور بھی کوئی ہو سکتی ہے۔میرے خطبات کو پڑھ لیا جائے میں نے متواتر وضاحت کے ساتھ مباہلہ کے لئے اپنے آپ کو پیش کیا ہے اور نہ صرف اپنے آپ کو پیش کیا ہے بلکہ کہا ہے کہ میرے بھائی بھی اس مباہلہ میں شامل ہو نگے۔پھر نہ صرف اپنے متعلق اور اپنے بھائیوں کے متعلق میں نے کہا ہے کہ وہ اس مباہلہ میں شریک ہوں گے بلکہ میں نے یہ بھی کہا ہے کہ میری بیویاں اور میرے بچے بھی اس مباہلہ میں شمولیت اختیار کریں گے۔خواہ مجلس مباہلہ کے اندر وہ نہ لائے جائیں۔اسی طرح میں نے ان کے بیوی بچوں کی شمولیت بھی مباہلہ میں ضروری قرار دی ہے چنانچہ مباہلہ کی دعا جو میں نے تجویز کی تھی وہ یہی تھی کہ ہم پر اور ہمارے بیوی بچوں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہو۔اگر ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کامل یقین نہ رکھتے ہوں، آپ کو خاتم المنتہین نہ سمجھتے ہوں ، آپ کو افضل الرسل یقین نہ کرتے ہوں اور قرآن کریم کو تمام دنیا کی