خطبات محمود (جلد 16) — Page 566
خطبات محمود ۵۶۶ سال ۱۹۳۵ء تھا کہ اس کی حفاظت کرتی اور یہ صرف مسجد کے لئے ہی نہیں اگر کہیں کوئی گوردوارہ گرایا جاتا تو بھی سکھوں کا اسی طرح ساتھ دیتے جس طرح آج مسلمانوں کا دے رہے ہیں۔کیونکہ قرآن کریم نے عبادت گاہوں کی حفاظت مسلمانوں کا خاص فرض قرار دیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر انبیاء نہ آتے تو لوگ تعصب کی وجہ سے آپس میں ایک دوسرے کی عبادت گا ہیں گرا دیتے۔سے پس اگر کوئی مندر یا گوردوارہ یا گر جا بھی کرایا جاتا تو میں سمجھتا ہوں مسلمانوں پر فرض ہوتا کہ ان کے بچانے کی کوشش کرتے اور گرانے والوں کی مذمت کرتے۔پس ہم نے ہمدردی اُس وقت شروع کی جب دیکھا کہ مسلمانوں کے جذبات پر ظلم ہوا ہے اور اس پر بھی اگر حکومت بُرا مناتی ہے تو ہم کچھ نہیں کر سکتے۔جب ایک مسجد گرائی جائے تو کس طرح ہو سکتا ہے کہ ہمارے دل زخمی نہ ہوں۔پس ہمارے قلوب مجروح ہوئے ہیں اور اسی وجہ سے ہمارے اخبارات نے اس کے متعلق لکھا ہے اور یہ احرار کی مخالفت کی وجہ سے نہیں بلکہ مسجد سے ہمدردی کی وجہ سے لکھا ہے۔دوسری بات اس کے متعلق میں یہ کہنی چاہتا ہوں کہ رسول نافرمانی کے ہم ہمیشہ سے مخالف رہے ہیں۔اگر سول نافرمانی کی جاتی تو ہم ضرور اس کی مخالفت کرتے۔اور اب بھی اگر کی گئی تو جن پر ہمارا اثر پڑ سکے ہم انہیں یہی سمجھائیں گے کہ ایسا نہ کرو۔اس کے باوجود اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ یہ سب کام ہم کرا رہے ہیں تو یہ اس کا جھوٹ اور افتراء ہے۔ہم کسی ایسی تحریک میں نہ شامل ہوئے ہیں نہ ہو سکتے ہیں اور نہ ہوں گے اور جو شخص ایسی تحریکات کو ہماری طرف منسوب کرتا ہے وہ ہماری مذہبی ہتک کرتا ہے اور میں اس کے متعلق سواۓ لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِینَ کے اور کیا کہہ سکتا ہوں۔اگر مسلمانوں میں واقعی سول نافرمانی کی تحریک ہوئی تو گو احرار نے عام مسلمانوں پر سے ہمارے اثر کو زائل کرنے کی پوری پوری کوشش کی ہے مگر پھر بھی لجاجت سے ، پیار سے ، منت سے مسلمانوں کو اس سے باز رکھنے کی ہم پوری کوشش کریں گے۔کانگرسی تحریکات کے زمانہ میں تو مسلمان ہماری ایسی باتوں کو قبول کر لیتے تھے لیکن اگر اب نہ کریں تو اس کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی جس کی شہہ سے احرار نے لوگوں کو ہمارے خلاف بھڑکا دیا ہے۔تیسری بات اس کے متعلق یہ ہے کہ اس معاملہ میں ہم احرار کو سخت غلطی پر سمجھتے ہیں۔ان لوگوں نے مسلمانوں سے دھوکا کیا۔پس علاوہ اس غصہ کے کہ انہوں نے بلا وجہ ہماری مخالفت کی ہے اس