خطبات محمود (جلد 16) — Page 558
خطبات محمود ۵۵۸ سال ۱۹۳۵ء کرتا ہے۔حضرت یونس علیہ السلام کے متعلق مفسرین نے لکھا ہے کہ جب وہ مچھلی کے پیٹ میں سے نکلے تو بہت ضعیف تھے۔انہوں نے اپنی قوم کو عذاب کی خبر دی تھی مگر قوم کے لوگوں نے تو بہ کی جسے اللہ تعالیٰ نے قبول کر لیا اور عذاب ٹل گیا۔اُن کو اس سے بہت صدمہ ہوا اور خیال کیا کہ جب میں ان لوگوں کے سامنے جاؤں گا تو وہ کہیں گے پیشگوئی پوری نہیں ہوئی اور تو جھوٹا ہے اس لئے وہاں سے چلے گئے۔یہ ایک لمبا واقعہ ہے جس کے بیان کرنے کی یہاں ضرورت نہیں۔بہر حال واقعہ کے آخر میں مفسر بیان کرتے ہیں کہ مچھلی نے انہیں نگل لیا اور پھر اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کر دیئے کہ اُس نے ان کو صحیح سلامت اُگل دیا۔جہاں آپ اگلے گئے وہاں ایک چٹیل میدان تھا جس میں کوئی سایہ وغیرہ بھی نہ تھا۔اور آپ اس قدر کمزور تھے کہ آرام حاصل کرنے کے لئے سفر کر کے دوسری جگہ جانے کے نا قابل تھے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایسا سامان کیا کہ وہیں ایک بیل پیدا ہوگئی یا پہلے سے موجود تھی اور جلد جلد بڑھ گئی۔اور آپ نے اس کے سایہ میں بہت آرام پایا لیکن جب آپ کے جسم میں کچھ کچھ طاقت معلوم ہونے لگی تو ایک کیڑے نے اُسے کاٹ دیا۔وہ خشک ہونے لگی اور سایہ جاتا رہا۔اس پر آپ نے کہا کہ خدایا! یہ کیڑا سزا کا مستحق ہے مجھے اس بیل کا کتنا آرام تھا جسے اس نے کاٹ دیا۔اس پر اللہ تعالیٰ نے انہیں الہام کیا کہ دیکھو! یہ بیل کیا حیثیت رکھتی ہے اس کے کاٹے جانے پر تم نے اتنا درد محسوس کیا پھر تم کس طرح امید رکھتے ہو کہ ایک لاکھ انسان جو تو بہ کر چکے تھے میں انہیں ہلاک کر دیتا۔اگر تمہیں بیل پر اتنا صدمہ ہوا ہے تو مجھے ان کا کیوں درد نہ ہوتا۔حضرت یونس علیہ السلام سے حقیقت کو سمجھ گئے اور اپنے وطن کو واپس چلے گئے۔پس احراری اتنی لمبی چوڑی خرید وفروخت کے سلسلہ کی بجائے یہی کیوں نہیں سمجھ لیتے کہ احمدیوں نے دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے ہی یہ سب سامان پیدا کر دئیے۔اس کے بے گناہ بندوں پر ظلم ہو رہا تھا اللہ تعالیٰ نے سکھوں کے دل میں تحریک کی کہ مسجد کو گراؤ۔مسلمانوں کے اندر غیرت پیدا کی ، گورنمنٹ سے غلطیاں کرائیں اور احرار کو گھروں میں بٹھا دیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ خدا نے انکے قدم اکھاڑ دیئے اور آج چاروں طرف سے ان کو گالیاں مل رہی ہیں ہم پر خواہ مخواہ وہ کیوں الزام لگا رہے ہیں۔میں یہ باتیں سنتا تھا اور خاموش تھا۔میں اس کی ضرورت نہ سمجھتا تھا کہ کوئی جواب دوں اور اس طرح اس شورش میں ایک اور شورش پیدا کر دوں مگر حکومت کے بعض عمال اور احرار نے مجھے مجبور کر