خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 538 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 538

خطبات محمود ۵۳۸ سال ۱۹۳۵ء اُس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کا جو درجہ تم نے بیان کیا ہے ، وہی میں سمجھتا ہوں اس سے ایک تنکے کے برابر بھی زیادہ نہیں سمجھتا۔میں تمہیں قریش مکہ کے حوالے نہیں کر سکتا تم آزادی سے میرے ملک میں رہو کو ئی شخص تم پر ظلم نہیں کرسکتا۔سے بہر حال مکہ والوں نے یہی طریق اختیار کیا تھا کہ کہا صحابہ حضرت عیسی علیہ السلام کی ہتک کرتے ہیں۔آج ہمارے مخالف بھی ہمارے متعلق اسی قسم کی کذب بیانیوں سے کام لیتے ہیں ، وہ جھوٹ بولتے ہیں اور صریح غلط بیانی کرتے ہوئے ہمارے متعلق وہ کچھ کہتے ہیں جو ہرگز ہمارا عقیدہ نہیں۔مثلاً ہمارے متعلق کہتے ہیں کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرنے والے ہیں یا کہتے ہیں کہ ہم حضرت عیسی علیہ السلام کی توہین کرتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں اگر کسی کے اندر ایک ذرہ بھر بھی تخم دیانت ہو تو وہ ہمارے لٹریچر کو پڑھ کر یہ خیال بھی نہیں کر سکتا کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا حضرت عیسی علیہ السلام کی ہتک کرنے والے ہیں۔ہمارے عقائد بالکل واضح ہیں اور ہماری کتابیں بھی چھپی ہوئی موجود ہیں۔ان کو پڑھ کر کون ہے جو یہ کہہ سکے کہ ہم نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ رسول کریم ﷺ کی تک کرتے ہیں۔ہاں دشمن یہ کہہ سکتا ہے کہ گو الفاظ میں یہ لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کرتے ہیں مگر ان کے دلوں میں آپ کا ادب نہیں مگر اس صورت میں ہمارا یہ پوچھنے کا حق ہوگا کہ وہ کو نسے ذرائع ہیں جن سے کام لے کر انہوں نے ہمارے دلوں کو پھاڑ کر دیکھ لیا اور معلوم کر لیا کہ ان الله میں حقیقت رسول کریم ﷺ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بہتک کے جذبات ہیں۔رسول کریم ﷺ کا ادب اور احترام جو ہمارے دلوں میں ہے ، میں سمجھتا ہوں مخالفوں کے لئے اس کے پہچاننے کے دو طریق ہو سکتے ہیں ان دو طریق میں سے کسی ایک کو دشمن اختیار کر کے دیکھ لے اسے معلوم ہو جائے گا کہ ہمارے دلوں میں رسول کریم ﷺ کی محبت ہے یا نہیں۔مثلاً : ایک تو یہ ہے کہ ہندؤں سکھوں اور عیسائیوں میں سے ایسے لوگ جو ہمارے ساتھ ملنے جلنے والے ہوں سو ، دوسو ، چار سو ، پانچ سو یا ہزار تلاش کر لئے جائیں اور ان ہزار سے کہا جائے کہ وہ اپنے اپنے مذہب کی مقدس مذہبی کتاب ہاتھ میں لے کر اُس خدا کی جس کے ہاتھ میں اُن کی جان ہے قسم کھائیں اور یہ قسم کھا کر کہ اگر وہ جھوٹ بولیں تو اُن پر اور اُن کے بیوی بچوں پر خدا تعالیٰ کا عذاب نازل ہو بتائیں کہ جب کبھی احمدیوں سے انہیں بات چیت کرنے کا موقع ملا ہے ، انہوں نے احمدیوں