خطبات محمود (جلد 16) — Page 48
خطبات محمود ۴۸ سال ۱۹۳۵ء سابق گورنر پنجاب سر جافری (SIR GEOFFREY) سے ذکر کیا کہ سرکاری ملازم اس طرح کی بددیانتیاں کرتے ہیں تو انہوں نے ایک حج کا نام لیا اور مجھ سے دریافت کیا کہ یہ تو نہیں ہے اور کہا کہ ہمیں بھی اس کے متعلق شکایات پہنچی ہیں مگر چونکہ ہمارا طریق جاسوسی اور شکایت کرنے کا نہیں اس لئے میں نے نام تو نہ بتایا مگر جس کا نام انہوں نے لیا وہ نہیں تھا جس کا مجھ سے ذکر کیا گیا تھا۔بہر حال اس سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ حکومت کے پاس بھی ایسی شکایتیں پہنچتی رہتی تھیں اور ایسے افسر ایک سے زیادہ تھے۔چونکہ سر جافری نے جس کا نام لیا وہ اور تھا اور میرے علم میں جو تھا اور تھا اس لئے ثابت ہوا کہ ایک سے زیادہ آدمی ایسے تھے جن کے متعلق اس قسم کے شبہات تھے کہ وہ تنخواہ کا ایک حصہ اس امر پر خرچ کرتے ہیں کہ حکومت کے خلاف شورش میں اضافہ ہو۔تو کرنے کو تو لوگ سب قسم کے کام کر لیتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ طریق جائز ہے۔جو شخص حکومت سے تنخواہ وصول کرتا ہے وہ اگر دل میں اس کے بعض احکام کو بُرا بھی سمجھے تو بھی اس کا فرض ہے کہ جب تک ملازمت کرتا ہے حکومت کے قوانین کی اطاعت کرے اور اس کا خیر خواہ رہے۔اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو وہ اپنے اخلاق کو بٹہ لگاتا ہے اور اگر چہ حکومت اسے نہ بھی پکڑ سکے اس کے دل میں یہ احساس ضرور ہوتا ہے کہ میں مجرم ہوں اور جب وہ خدا تعالیٰ کے حضور پیش ہو گا تو اسے ماننا پڑے گا کہ میں مجرم ہوں اس لئے گو ہماری بہت سی انجمنوں میں سرکاری ملازم نہیں ہیں اور جماعت میں بھی شاید سرکاری ملازمین کی تعداد پانچ فیصدی ہو باقی پچانوے فیصدی احباب جماعت تاجر، پیشہ ور، زمیندار اور صنعت وحرفت سے تعلق رکھنے والے ہیں اور ان کے لئے قانونی حد تک سیاسیات میں دلچسپی لینا جائز اور درست ہے۔پھر ہماری انجمنوں میں سے بہت سی ایسی ہیں جن میں سرکاری ملازم کوئی نہیں مگر چونکہ بعض میں ہیں چاہے ایسی انجمنوں کی تعداد قلیل ہی کیوں نہ ہو اس لئے میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ سیاسیات سے مشابہ باتوں کی بھی اجازت جماعت کو دوں کیونکہ ہمارے اخلاق کا معیار دوسروں سے بلند ہونا چاہئے۔بے شک باتیں دھوکا دینے والی قو میں کر لیتی ہیں مگر ہمیں ان کی نقل نہیں کرنی چاہئے اور ایسا طریق عمل اختیار کرنا چاہئے کہ کوئی ہم پر انگلی نہ اٹھا سکے لیکن چونکہ جماعت میں یہ احساس ہے اور صحیح ہے کہ خواہ ایک شخص کے ہاتھ پر دس کروڑ انسانوں نے بیعت کر رکھی ہو پھر بھی اس کی طرف سے جو آواز بلند ہواس کے متعلق یہی حکومت سمجھتی ہے کہ ایک آواز ہے خواہ وہ دس کروڑ انسانوں کی آواز سے زیادہ وقیع ہو