خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 522 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 522

خطبات محمود ۵۲۲ سال ۱۹۳۵ء دشمن کھڑا ہو جاتا ہے اور کہتا ہے کہ مار دینے کے متعلق تو مجھے اتفاق ہے مگر یہ طریق جو تجویز کیا گیا ہے میں اس کی حمایت نہیں کرتا اور بس اسی میں بات رہ گئی۔غرض اللہ تعالیٰ کوئی غیر معمولی سامان ایسے کر دیتا کہ انہیں حملہ کا موقع ہی نہ مل سکا اور اگر کسی نے کیا بھی تو اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کر دیئے کہ وہ خود ہی ڈر گیا اور خوفزدہ ہو کر رہ گیا۔رسول کریم ﷺ ایک معاہدہ میں شریک ہوئے تھے جس کا مقصد یہ تھا کہ مظلوموں کی مدد کی جائے ایک شخص نے ابو جہل سے روپیہ لینا تھا وہ کسی گاؤں کا رہنے والا تھا بار بار آتا۔مگر ابو جہل انکار کر دیتا اور وہ پھر واپس چلا جاتا۔وہ باری باری ان سب لوگوں کے پاس گیا۔جو اس معاہدہ میں شریک تھے مگر کسی نے اس کی حمایت کا دم نہ بھرا بلکہ سب نے یہی کہہ دیا کہ ابو جہل اتنا بڑا رئیس ہے اسے کون کچھ کہہ سکتا ہے آخر وہ شخص رسول کریم ﷺ کے پاس آیا آپ نے فرمایا چلو میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں اور اُس مخالفت کے زمانہ میں جب کفار نے آپ کو مارنے کے لئے قسمیں کھائی ہوئی تھیں آپ اس کے ساتھ ابو جہل کے مکان پر تشریف لے گئے۔دروازہ پر پہنچ کر دستک دی ابو جہل باہر آیا اور آپ کو اپنے دروازہ پر دیکھ کر اُس کا رنگ فق ہو گیا۔اُس نے گھبرا کر پوچھا کہ آپ کیسے آئے ہیں ؟ آپ نے اس شخص کو آگے کیا اور پوچھا کہ کیا آپ نے اس کا روپیہ دینا ہے؟ اس نے کہا ہاں۔آپ نے فرمایا پھر دے دو وہ فوراً اندر گیا اور لاکر روپیہ دے دیا۔بعد میں اس کے ساتھیوں نے اسے شرمندہ کیا کہ تم تو دوسروں کو تلقین کیا کرتے تھے کہ مسلمانوں کا روپیہ کسی نے دینا ہو تو نہ دے مگر خود محمد لے کے آنے پر فوراً لا کر ادا کر دیا۔ابوجہل نے کہا میں کیا کرتا میں نے جب دروازہ کھولا تو یوں معلوم ہوا کہ دو بڑے بڑے مست اونٹ آپ کے دائیں بائیں کھڑے ہیں اور اگر میں نے ذرا بھی گستاخی کی تو مجھے کھا جائیں گے۔اب یہ سامان خدا کی طرف سے ہی تھا ور نہ وہاں وحشی اونٹ کہاں سے آنے تھے۔اللہ تعالیٰ نے کشفی رنگ میں اسے فرشتے دکھا دیئے کہ دیکھ لو یہ ہمارے سپاہی ہیں تم ذرا بولے تو یہ تمہارا ٹینٹوا دبادیں گے، پس ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ نے آپ کی مدد کی۔پھر آپ کو مدینہ میں لایا اور تھوڑے تھوڑے لشکروں کے ساتھ آپ کو فتوحات دیں۔پھر آپ کی زندگی میں ایسے واقعات بھی بہت سے ہیں کہ بالکل غیر معمولی حالات میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو محفوظ رکھا۔جب آپ غار ثور میں تھے تو دشمن بالکل سر پر پہنچ گیا اور حضرت ابو بکر گھبرا گئے کہ رسول کریم ﷺ اس کی نظر سے بچ نہیں سکیں گے اُس وقت اللہ تعالیٰ نے آپ کو الہام کیا کہ گھبراہٹ