خطبات محمود (جلد 16) — Page 521
خطبات محمود ۵۲۱ سال ۱۹۳۵ء بڑوں سے مل جائیں گے۔اُس وقت کسی نے نپولین کا نام پیش کر دیا اور اسے آگے بڑھنے کے سامان میسر آگئے۔پھر تیمور اور بابر ہیں یہ گوڈا کو تو نہ تھے ، بادشاہ ہی تھے مگر معمولی علاقوں کے۔پہلے ان کی لڑائیاں اپنے اردگرد کے بادشاہوں سے ہوئیں اور انہیں فتوحات حاصل ہوتی گئیں اور اس طرح ان کی طاقت مضبوط ہوتی چلی گئی ان کی ابتدائی جنگیں ان جیسے قبائل کے ساتھ ہی تھیں جو ان کے برابر کے جوڑ تھے لیکن رسول کریم ﷺ تیرہ سال تک ایسے علاقہ میں رہے جہاں کا ہر شخص مسلمان کا قتل واجب اور ضروری سمجھتا تھا اور اسے ثواب کا فعل قرار دیتا تھا اور مسلمانوں کی تعداد اس قدر قلیل تھی کہ گویا قریباً ایک ہزار کے مقابل پر ایک مسلمان تھا۔معتبر روایات سے ثابت ہے کہ مکہ میں ہجرت کے وقت تک ۸۲، ۸۳ صحابہ ہی تھے اور مکہ سے جولشکر مسلمانوں کے ساتھ لڑائیاں کرنے کے لئے نکلتے رہے ہیں اس سے کفار کی طاقت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔مہذب قوموں کے متعلق سمجھا جاتا ہے کہ ان میں سے سو میں سے چھ سپاہی مل سکتے ہیں اور اگر بڑا زور دیا جائے تو دس۔اور جو اقوام مہذب نہیں وہ عام حالات میں سولہ اور خاص حالات میں ۲۲،۲۰ فیصدی سپاہی دے سکتی ہیں۔رسول کریم علی کے مقابل پر جو لشکر آتے رہے ہیں ان میں مکہ کے سپاہی ہزار بارہ سو تک ہوتے تھے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مکہ اور گردو نواح کی آبادی دس بارہ ہزار ضرور تھی اور ان کے مقابل پر مسلمان ابتداء میں تو دو تین ہی اور آخر پر ۸۲، ۸۳ تھے۔رسول کریم ﷺ کی مخالفت ابتداء سے ہی تھی ، جب آپ نے دعویٰ کیا اُسی وقت کفار نے فیصلہ کر لیا تھا کہ آپ زندہ رکھے جانے کے قابل نہیں۔جو عذاب صحابہ کو دیے جاتے تھے ان سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ابتداء ہی سے دیئے جاتے تھے ، جب آپ کے ساتھیوں کی تعداد ۲۳ ، ۲۴ سے زیادہ نہ تھی اُس وقت بھی بعض عورتوں کی شرمگاہوں میں نیزے مار کر ہلاک کیا گیا تھا اور ایک مرد کی ایک ٹانگ ایک اونٹ کے ساتھ اور دوسری دوسرے سے باندھ کر اور اونٹوں کو مختلف سمتوں میں چلا کر چیر دیا گیا تھا۔یہ وہ وقت تھا کہ جب مسلمانوں کو قطعاً کوئی طاقت حاصل نہ تھی کہ سمجھ لیا جائے مکہ والے مسلمانوں کی طاقت سے گھبرا گئے تھے بلکہ اس وقت مسلمان ایسے کمزور تھے کہ کفار یکدم حملہ کر کے ان سب کو مار سکتے تھے مگر باوجو دسب تدابیر کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نہ کوئی سامان ایسا ضرور ہو جاتا تھا کہ وہ ایسا نہ کر سکتے اور ڈر جاتے تھے۔بسا اوقات ایسا ہوا کہ وہ مجالس میں بیٹھے ہیں اور فیصلہ کرتے ہیں کہ مسلمانوں کو مار دیا جائے مگر ان میں سے کوئی شدید